تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 105 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 105

96 بعض لوگوں کے منہ سے یہ بات بھی نکلی ہے کہ سنیما کی ممانعت وس سال کے لئے ہے۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ بُرائی کا تعلق دس سال یا بیس سال سے نہیں ہو تا جس چیز میں کوئی خرابی ہو وہ کسی میعاد سے تعلق نہیں رکھتی۔اس طرح سے تو میں نے صرف آپ لوگوں کی عادت چھڑا دی ہے۔اگر میں پہلے ہی یہ کہ دیتا کہ اس کی ہمیشہ کے لئے ممانعت ہے تو بعض نوجوان مبین کے ایمان کمزور تھے۔اس پر عمل کرنے میں تامل کرتے مگر اپ نے پہلے سال تین سال کے لئے ممانعت کی اور جب عادت ہٹ گئی تو پھر مزید سات سال کے لئے ممانعت کر دی اور اس کے بعد چونکہ عادت بالکل ہی نہیں روہینگی اس لئے دوست خود ہی آہیں گے کہ بہنم میں جائے سنیما، اس پر پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ پھر فرمایا : سنیما کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس زمانہ کی بعد ترین لعنت ہے۔اس نے سینکڑوں شریف گھرانے کے لوگوں کو گویا اور سینکڑوں شریف خاندانوں کی عورتوں کو تا چنے والی بنا دیا ہے۔میں اوبی رسالے وغیرہ دیکھتا رہتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ سنیما کے شوقین اور اس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مضامین میں ایسا تمسخر ہوتا ہے اور اُن کا اخلاق اور اُن کا مذاق ایسا گندہ ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔سنیما والوں کی عرض تو روپیہ کمانا ہے نہ کہ اخلاق سکھانا۔اور وہ روپیہ کمانے کے لئے ایسے لغو اور بیہودہ فسانے اور گانے پیش کرتے ہیں کہ جو اخلاق کو سخت خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور شرفاء جب اُن میں جاتے ہیں تو ان کا مذاق بھی بگڑ جاتا ہے اور ان کے بچوں اور عورتوں کا بھی جون کو وہ بنیا دیکھنے کے لئے ساتھ لے جاتے ہیں اور سنیما ملک کے اخلاق پر الیسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں میرا منع کرنا تو الگ رہا اگر میں ممانعت نہ کروں تو بھی مومن کی روح کو خود بخود اس سے بغاوت کرنی چاہئیے" ہے اپریل 1917ء میں حضور کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی کہ بعض زجوان سمجھتے ہیں کہ حضرت امیر مومنین نے تاریخی تصاویہ دیکھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ بجو شخص کہتا ہے کہ میں تھے ہسٹار ایل پیکھ نہ دیکھنے کی اجازت دی ہے وہ کذاب ہے۔میں نے ہرگز ایسا نہیں کہا۔۔۔میں نے جو اجازت دی ہے وہ یہ ہے کہ علمی یا سینگی اداروں کی طرف سے سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء صفحه ۸۵ به جمعه فرموده ۸ دسمبر الفضل ۱۲ دسمبر ۱۹۲ صفحه ۵ کالم ۳۰۲ خطبه