تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 104
۹۶ اسی طرح ۱ اور ۱۹۲۵ء میں بھی واقفین نے مکرم مولوی صاحب موصوف کی قیادت میں پھر ڈلہوزی کا پیدل - سفر کیا اور وہاں کچھ عرم قیام کیا یہاں تعلیم کے لئے اساتذہ کرام بھی تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ہے نہم یہ زمانہ چونکہ واقفین کی ٹرینگ اور تربیت کا تھا۔اس لئے حضور نے جماعت کو اس کی اہمیت کی طرف تو تبہ دلاتے ہوئے فرمایا :- آج نوجوانوں کی ٹرینینگ اور اُن کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹریننگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو رہا۔مگر جب قوم تو بیت پا کر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔در حقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اُٹھنے پر اُٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھے بجائے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے اور یہ چیز ہماری جماعت میں ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ہماری جماعت میں قربانیوں کا مادہ بہت کچھ ہے مگر ابھی یہ جذبہ اُن کے اندر اپنے کمال کو نہیں پہنچا کہ جونہی ان کے کانوں میں خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی آواز آئے اس وقت جماعت کو یہ محسوس نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں نے اُن کو اٹھالیا ہے اور صور اسرافیل اُن کے سامنے پھونکا جارہا ہے۔جب آواز آئے کہ بیٹھو تو اس وقت انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں کا تصرف اُن پر ہو رہا ہے اور وہ ایسی سواریاں ہیں جن پر فرشتے سوار ہیں جب وہ کہے بیٹھ جاؤ تو سب بیٹھ جائیں جب کہے کھڑے ہو جاؤ تو سب کھڑے ہو جائیں جس دن یہ رُوح ہماری جماعت میں پیدا ہو جائے گی اس دن جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا اور اسے توڑ مروڑ کر رکھ دیتا ہے۔اسی طرح احمدیت اپنے شکار پور گورگی اور تمام دنیا کے ممالک پیٹریا کی طرح اس کے پنجہ میں آجائیں گے اور دنیا میں اسلام کا پرچم پھر نئے سرے سے بہرا نے لگ بھائے گا " ہے حضور نے ابتدا میں سنیما کی مانعت تین سال کے لئے کی تھی مگر پھر اس کی سنیما کی مستقل ممانعت توسیع دس سال تک کر دی جس کے بعد سنیما کو مستقل طور پر ممنوع قرار دے دیا اور ارشاد فرمایا کہ :- ے ڈاہوری میں مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی کے علاوہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را نیکی و مکرم مولوی عبد اللطيف صاحب بہاولپوری اور مکرم پیر عبد العزیز صاحب بھی واقفین کی تعلیم کے لئے تشریف لے گئے تھے ؟ 66 لے" الفضل دراپریل ها صفحه ، خطبه جمعه فرموده علر مارچ ۱۹۳۹ء