تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 101
۹۳ ہر واقف مجاہد ہے اور مجاہد پر اللہ تعالیٰ نے بہت ذمہ داریاں ڈالی ہیں۔اُن کو پورا کرنے والا ہی مجاہدہ کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔ہمارا مقابلہ تو ان قوموں سے ہے جن کے نوجوانوں نے چالیس پچالیس سال تک شادی نہیں کی اور اپنی زندگیاں لیبارٹریوں میں گزار دیں اور کام کرتے کرتے میز پر ہی کر گئے اور بہاتے ہوئے بعض نہایت مفید ایجا دیں اپنی قوم کو دے گئے مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے کہ چین کے پاس گولہ بارود اور دوسرے لڑائی کے ہتھیار نہ رہے تو انہوں نے امریکہ سے روی شدہ بندوقیں منگوائیں اور انہی سے اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔انگلستان والوں نے کہا کہ بے شک جر من آجائے ہم اس سے سمندر میں لڑیں گے اگر سمندر میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو پھر اس سے سمندر کے کناروں پر لڑیں گے اور اگر سمندر کے کناروں پر لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم اس سے شہروں کی گلیوں میں لڑیں گے اور اگر گلیوں میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم گھروں کے دروازوں تک مقابلہ کریں گے۔اور اگر پھر بھی مقابلہ نہ کر سکے تو پھر کشتیوں میں بیٹھ کر امریکہ پہلے جائیں گے مگر اس سے جنگ کرنا ترک نہیں کریں گے۔ہمارا مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے۔۔۔۔ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے کہ جہاں ان کو کھڑا کیا جائے وہ وہاں سے ایک قدم بھی نہ ہلیں سوائے اس کے کہ اُن کی لاش ایک فٹ ہماری طرف گرے تو گرے لیکن زندہ انسان کا قدم ایک فٹ آگے پڑے پیچھے نہ آئے ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے اور یہی لوگ ہیں جو قوموں کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔اللہ تعالے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ہر آدمی کفن بر دوشش ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يُنتظر کہ اُن میں سے کچھ لوگوں نے اسلام کی راہ میں اپنی جانیں دے دی ہیں اور کچھ انتظار کر رہے ہیں۔یہ وقف ہے جو دنیا میں تغیر پیدا کیا کرتا ہے۔لے وانین میں مجاہدانہ روح اور سپاہیانہ انداز پیدا کرنے کے لئے حضور نے متعدد وسائل اختیار فرمان اول۔واقفین کے لئے قطعی ہدایت تھی کہ وہ دارالواقفین میں رہیں۔شادی شدہ واقفین کو ہفتہ میں صرف ایک بار یعنی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو گھر جانے کی اجازت تھی اور مجرد واقفین تھوڑے سے وقت کے لئے ہفتہ میں دو بار گھر بجا سکتے تھے اور مہینہ میں ایک رخصت گھر گزار سکتے تھے۔ل " الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۴۶ صفر ۷-۸ ۰ 4 A-4