تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 102 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 102

۹۴ دوم واقفین روزانہ ڈائری لکھنے کے پابند تھے۔ڈائری میں خاص طور پر یہ ذکر کیا جانا ضروری تھا کہ انہوں نے کتنی نمازیں باجماعت ادا کی ہیں اور کس مسجد میں ؟ نیز یہ کہ تلاوت قرآن مجید کتنے دنیا کی ہے؟ سوم - واقفین ہر پندرہ روز کے بعد عموماً ایک مرتبہ حضرت اقدس کی خدمت میں اجتماعی طور پر حاضر ہوتے تھے۔ہیں طرح حضور کو براہ راست نگرانی کرنے اور طلبہ کو فیض حاصل کرنے کا موقعہ میسر آتا رہتا تھا بحضور وقتاً فوقتاً مختلف علوم وفنون میں واقفین کا خود بھی امتحان لیتے۔چہارم۔چونکہ وہ زمانہ واقفین کی عملی ٹینگ کا تھا اس لئے ان کی خاص توجہ سے نگہداشت کی جاتی تھی کیسی غلطی کو نظر انداز نہیں کیا جاتا تھا اور اس پر گرفت ہو کر سزا دی بھاتی تھی جیسے معین وقت کے لئے اعتکاف بیٹھنا ، مقاطعہ یا خروج کے بغیر لمبا پیدل سفر یا سب کے سامنے معافی مانگنا ہے حضور کا نظریہ اس بارہ میں یہ تھا کہ جب تک کسی قوم کے افراد کو سزا برداشت کرنے کی عادت نہ ہو۔کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔پنجم۔حضور نے بار بار واقفین پر یہ حقیقت واضح فرمائی کہ وقف کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو کام سپرد ہو اُسے کیا جادے اُسے دین ہی دین سمجھیں“ شتم مجلس خدام الاحمدیہ نئی نئی قائم ہوئی تھی حضرت خلیفہ السیح الثانی من کی طرف سے اس مجلس کے کاموں میں واقفین کی شرکت لازمی قرار دی گئی تھی۔نے نماز با جماعت کی پابندی واقفین کے لئے اس قدر ضروری تھی کہ حضور نے جامعہ احمدیہ کے بعض طلبہ کو نماز میں غفلت کے باعث وقت سے فارغ فرما دیا اور بعض طلبہ کا وقت اس وجہ سے قبول نہیں فرمایا کہ وہ نماز با جماعت میں شست پائے گئے دملا حظہ ہو ریکارڈ وکالت و یوان تحریک جدید دیوہ) مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ حضور واقفین زندگی کا اعزاز و اکرام نہیں فرماتے تھے۔حق یہ ہے کہ حضور کا واقفین سے محبت شفقت کا سلوک اپنی مثال آپ تھا۔حضور کی طرف سے دفتر تحریک جدید کو واضح ارشاد تھا کہ واقفین زندگی کو معزز الفاظ سے مخاطب کیا جائے۔واققین کا جو اکرام و اعزار حضور فرماتے تھے وہ اس بات سے ظاہر ہے کہ ۱۹۴۴ء کے قریب حضور نے یہ اعلان فرمایا کہ میں آئیندہ صرف اپنے افراد خاندان ہی کا نکاح پڑھوں گا۔مگر اس اعلان سے واقفین کو مستثنی رکھا چنانچہ حضور نے مولوی نور الحق صاحب ( ابو المنیر) واقف زندگی کا خطبہ نکاح پڑھتے ہوئے ار ا پریل شاہ کو ارشاد فرمایا :- کے "میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ میں سوائے اپنے عزیزوں کے اور کسی کا نکاح نہیں پڑھاؤں گا۔مگر چونکہ یہ واقعت زندگی ہیں اور اس وجہ سے میرے عزیز وں میں شامل ہیں اس لئے میں اس نکاح کا اعلان کر رہا ہوں؟ الفضل " ۲۲ جون ۱۹۴۷ ، صفحه ۵ کالم ۴)