تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 84 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 84

24 لوگو کی تبلیغ کرنی شروع کر دی کھٹکی تبلیغ سے تو ہم نے خود انہیں روکا ہوا تھا کیونکہ یہ وہاں قانون کے خلاف ہے۔آہستہ آہستہ وہ تبلیغ کیا کرتے اور لوگوں کو نصیحت کیا کرتے کہ جب کبھی پنجاب میں جایا کرو ، تو قادیان بھی دیکھ آیا کرو۔رفتہ رفتہ جب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ احمدی ہے تو انہوں نے گھر والوں کی زور دینا شروع کر دیا کہ تمہیں اس فتنہ کے انسداد کا کوئی خیال نہیں۔تمہارے گھر میں گھر پیدا ہوگیا ہے اور تم اس سے غافل ہو چنانچہ انہیں اس قدر بر انگیختہ کیا گیا کہ وہ قتل کے درپے ہو گئے۔مولوی ولید ادخال چند دن پہلے ہندوستان میں بعض دوائیاں خریدنے کے لئے آئے ہوئے تھے جب دوائیاں خمید کہ اپنے علاقہ کی طرف گئے تو انہی کے چا زاد بھائی اور سالہ نے ان پر گولیوں کے متواتر تین چار فائر کر کے انہیں شہید کر دیا۔اسی طرح ایک اور نوجوان جو اس تحریک کے تحت چین میں گئے تھے وہ بھی فوت ہو گئے ہیں اور گو اُن کی وفات طبیعی طور پر ہوئی ہے مگر ایسے رنگ میں ہوئی ہے کہ وہ تو بھی اپنے اندر شہادت کا رنگ رکھتی ہے چنانچہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا مجھے ایسے حالات معلوم ہوئے جن سے پتہ لگتا ہے کہ قہ میں اس کی موت معمولی موت نہیں بلکہ شہادت کا رنگ لئے ہوئے ہے۔اس نوجوان نے بھی ایسا اخلاص دکھایا جو نہایت قابل قدر ہے۔سب سے پہلے کامرہ میں جب میں نے یہ تحریک کی اور اعلان کیا کہ نوجوانوں کو غیر ممالک میں نیکل جانا چاہئیے تو یہ تو جوان جو غالباً دینیات کی متفرق کلاس میں پڑھنا تھا اور عدالت خال اس کا نام تھا تحصیل خوشاب ضلع شاہ پور کا رہنے والا تھا۔میری اس تحریک پر بغیر اطلاع دیئے کہیں چلا گیا۔قادیان کے لوگوں نے خیال کر لیا کہ میں طرح طالب علم بعض دفعہ پڑھائی سے دل برداشتہ ہو کر بھاگ بھایا کرتے ہیں اسی طرح وہ بھی بھاگ گیا ہے۔مگر دراصل وہ میری اس تحریک پر ہی باہر گیا تھا مگر اس کا اُس نے کسی سے ذکر تک نہ کیا۔چونکہ ہمارے ہاں عام طور پر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید اور دوسرے شہداء کا ذکر ہوتا رہتا ہے اس لئے اُسے یہی خیال آیا کہ میں بھی افغانستان جاؤں اور لوگوں کو تبلیغ کروں۔اُسے یہ بھی علم نہیں تھا کہ غیر ملک میں جانے کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اُسے پاسپورٹ مہیا کرنے کے ذرائع کا علم تھا۔وہ بغیر پاسپورٹ لئے نکل کھڑا ہوا۔اور افغانستان کی طرف پیپل پڑا جب افغانستان میں داخل ہوا تو چونکہ وہ بغیر پاسپورٹ سے اس واقعہ کا ذکر حضور نے "الفضل" اور دسمبر ۱۹۳۵ ارد صفحه ۹۰۸ پرچہ بھی فرمایا تھا " - A مرگ