تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 85 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 85

کے تھا اس لئے حکومت نے اسے گرفتار کر لیا اور پوچھا کہ پاسپورٹ کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ پاسپورٹ تو میرے پاس کوئی نہیں۔انہوں نے اُسے قید کر دیا۔مگر جیل خانہ میں بھی اس نے قیدیوں کو تبلیغ کرنی شروع کر دی۔کوئی مہینہ بھر ہی وہاں رہا ہو گا کہ افسروں نے رپورٹ کی کہ اسے رہا کر دیا چاہیے ورنہ یہ قیدیوں کو احمدی بنالے گا چنانچہ انہوں نے اس کو ہندوستان کی سرحد پر لا کر چھوٹ دیا۔جب وہ واپس آیا تو اس نے مجھے اطلاع دی کہ میں آپ کی تحریک پر افغانستان گیا تھا اور وہاں میر ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔اب آپ بتائیں کہ میں کیا کروں میںنے اسے کہا کہ تم میں میں سے جا چنانچہ میں گیا اور اسے وقت اُس نے ایک اور لڑکے کو بھی جس کا نام محمد رفیق ہے اور ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا ہے تحریک کی کہ وہ ساتھ پہلے چنانچہ وہ بھی ساتھ تیار ہو گیا۔اس کے چونکہ رشتہ دار موجود تھے اور بعض ذرائع بھی اُسے میتر تھے اس لئے اُس نے کوشش کی اور اُسے پاسپورٹ بل گیا۔جس وقت یہ دونوں کشمیر پہنچے تو محمد رفیق تو آگے چلا گیا مگر عدالت خاں کو پاسپورٹ کی وجہ سے روک لیا گیا اور بعد میں گاؤں والوں کی مخالفت اور راہداری کی تصدیق نہ ہو سکنے کی وجہ سے وہ کشمیر میں ہی رہ گیا اور وہاں اس انتظار میں بیٹھا رہا کہ اگر مجھے موقع ملے تو میں نظر بچا کر چین چلا جاؤں گا۔مگر چونکہ سردیوں کا موسم تھا اور سامان اس کے پاس بہت کم تھا اس لئے کشمیر میں اسے ڈیل نمونیہ ہو گیا اور دو دن بعد فوت ہو گیا۔ابھی کشمیر سے چند دوست آئے ہوئے تھے۔انہوں نے عدالت خاں کا ایک عجیب واقعہ سُنایا جسے شنکر رشک پیدا ہوتا ہے کہ احمدیت کی صداقت کے متعلق اُسے کتنا یقین اور وثوق تھا۔وہ ایک گاؤں میں بیمار ہوا تھا یہاں کوئی علاج میں مر نہ تھا۔جب اس کی حالت بالکل خراب ہو گئی تو ان دوستوں نے سُنایا کہ وہ ہمیں کہنے لگا کسی غیر احمدی کو تیار کرو جو احمدیت کی صداقت کے متعلق مجھ سے مباہلہ کر لے۔اگر کوئی ایسا غیر احمدی نہیں مل گیا تو میں بچ جاؤں گا اور اُسے تبلیغ بھی ہو جائیگی دور نہ میرے بیچنے کی اور کوئی صورت نہیں۔شدید بیماری کی حالت میں یہ یقین اور وثوق بہت ہی کم لوگوں کو میتر ہوتا ہے کیونکہ نانوے فیصدی اس بیماری سے مر جاتے ہیں۔اور بعض تو چند گھنٹوں کے اندر ہی وفات پا جاتے ہیں۔۔۔۔۔ایسی خطرناک حالت میں جبکہ اس کی یقینی موت کا ننانوے فیصدی یقین کیا جا سکتا تھا، اس نے اپنا علاج یہی سمجھا کہ کسی غیر احمدی سے مباہلہ ہو جائے