تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 83 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 83

ง ایسا جنھا تھا جس کی خاص طور پر تعلیم و تربیت نہیں کی گئی تھی۔بہر حال اس کے ذریعہ ہمیں غیر مالک کا اچھا خاصہ تجربہ ہو گیا ہے۔اس تیتھا کے افراد میں بعض کمزوریاں بھی معلوم ہوئی ہیں کیونکہ ان میں اکثر ایسے تھے جو دینی تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔اور اگر کسی کو دینی تعلیم تھی تو دنیوی تعلیم کے لحاظ سے وہ کمزور تھا۔لیکن بہر حال یہ ایک مظاہرہ تھا جماعتی قربانی کا اور یہ ایک مظاہرہ تھا اس بات کا کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ جب بھی خدا تعالے کی آواز اُن کے کانوں میں آئے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اعلاء کلمہ اسلام کے لئے نیکل کھڑے ہوتے ہیں۔اس مظاہرہ کے ذریعہ دنیا کے سامنے ہماری جماعت کے نوجوانوں نے اپنے اخلاص کا نہایت شاندار نمونہ پیش کیا ہے " اے تحریک جدید کے دو مجاہدوں کی اس مقا پر ہم تحریک بی کے دور اول و دوم او و بینی ولی اون نگات اور عدالت خانصاحب کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے جنہوں نے تبلیغ اسلام کی قابل رشک مظاہرہ راہ میں جام شہادت نوش کیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :- قریب ترین عرصہ میں ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں نے اپنے اخلاص کا نہایت قابل رشک مظاہرہ کیا ہے اور وہ یہ کہ ان پچھیں تمہیں نوجوانوں میں سے جنہوں نے اپنی زندگیاں وقفت کی تھیں، ایک نوجوان تھوڑا ہی عرصہ ہوا غالباً پندرہ میں دن یا نہینہ کی بات ہے کہ محض احمدیت کی تبلیغ کی وجہ سے اپنے علاقہ میں مارے گئے ہیں۔اس نوجوان کا نام ولی داد خان تھا اور اس نے اپنی زندگی مخدمت دین کے لئے وقت کی ہوئی تھی۔افغانیان کے علاقہ میں ہم نے انہیں تبلیغ کے لئے بھجوایا تھا۔کچھ طلب بھی جانتے تھے اور معمولی امراض کے علاج کے لئے دوائیاں اپنے پاس رکھتے تھے۔کچھ مدت تک ہم انہیں خرچ بھی دیتے رہے۔مگر پھر ہم نے انہیں خرچ دینا بند کر دیا تھا۔ان کی اپنی بھی یہی خواہش بھی اور میں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا کہ اس علاقہ میں طلب شروع کر دیں اور آہستہ آہستہ جب لوگ مانوس ہو جائیں تو انہیں تبلیغ احمدیت کی جائے چنانچہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایسے مواقع بہم پہنچا دیئے کہ انہوں نے اس علاقہ میں ے رپورٹ مجلس مشاورت " ۱۹۳۹ صفحه ۳-۴ ہے