تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 69 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 69

کے مسلمان بنے اس کے بعد انہوں نے ا/ اکتوبر ۱۹۳۲ ء کی رات کو بڑھلاڈا ( ضلع حصار کے مسلمانوں پر بھی یورش کردی۔اور چند منٹوں میں سولہ مسلمان مرد عورتیں اور بچے گولیوں کا شکار ہوئے جن میں سے سات شہید اور نو زخمی ہو گئے۔عین اسی وقت جبکہ بڑھلاڑا کے مسلمانوں کو بہیمانہ طور پر ختم کیا جارہا 101 تھا بندوقوں سے مسلح ہندوؤں نے تلونڈی کے آٹھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان خونچکاں واقعات کی اطلاع اور مسلمانان بڈھلاڈا کی درخواست پر صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے کو تحقیقات کے لئے بھجوایا۔جنہوں نے ایک مبصر کی حیثیت سے نہایت محنت و عرقریزی کے ساتھ پیش آمدہ حالات کی چھان بین کی اور اس سازش کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا۔جو ایک عرصہ سے ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف نہایت منتظم طور پر کر رکھی تھی۔صوفی صاحب کی مکمل تحقیقات الفضل ۲۷/ نومبر ۱۹۳۲ء ( صفحہ ۱۰۰۷) میں شائع کر دی گئی جس سے مسلمانان پنجاب کو پہلی بار صحیح اور مکمل واقعات کا علم ہوا۔صوفی صاحب نے اپنے قیام کے دوران میں ایک اہم کام یہ بھی کیا کہ وہاں مسلمانوں کی تنظیم کے لئے ایک مسلم ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔جس کے صدر اور سیکرٹری بڑھلاڈا کے بعض اہل علم مسلمانوں کو مقرر کیا۔صوفی صاحب کے بعد مرکز کی طرف سے بعض اور اصحاب بھی بھجوائے گئے۔اور بالآخر چوہدری مظفر الدین صاحب بی۔اے بنگالی روانہ کئے گئے جنہوں نے اس علاقہ میں قریباً ایک سال تک قیام کیا۔افسروں سے ملاقات اور خط و کتابت کر کے مسلمانوں کی مدد کی اور اصل واقعات منظر عام پر لانے کے لئے متعدد مضامین لکھے۔چوہدری مظفرالدین صاحب نے مسلمانان حصار کی تنظیم میں بھی دلچسپی لی اور ان کی اقتصادی بہبود کے لئے بھی کوشش کرتے رہے اور جہاں ان کے جانے سے قبل بڑھلاڈا میں مسلمانوں کی خوردونوش کی ایک دکان بھی موجود نہ تھی۔وہاں ان کی تحریک پر پانچ چھ دکانیں کھل گئیں اور وہ مسلمان جو دہشت زدہ ہو گئے تھے اور ہندوؤں کی چیرہ دستیوں سے سہمے ہوئے تھے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے لگے۔اور وہ ہندو اور سکھ افسر جو اس فتنہ کے پشت پناہ تھے تبدیل کر دیئے گئے۔قبل ازیں ہندو افسر حصار کے مسلم طبقہ کے خلاف کس درجہ انتقامی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔اس کا اندازہ حصار کے معزز غیر احمدی مسلمانوں کی مندرجہ ذیل چٹھی سے بآسانی لگ سکتا ہے۔جو انہوں نے ۲۶ / جون ۱۹۳۳ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں بھجوائی اور جس پر حضور کی ہدایت کے مطابق احمدی نمائندہ نے حکومت پر مسلمانوں کا معاملہ ایسے طریق پر واضح کیا کہ اسے ظالم افسروں کے خلاف موثر اقدام کرنے کے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہا۔