تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 68
تاریخ احمد بیت - جلد ۷ YA اگر چه فرقہ وارانہ فیصلہ کے بعد اچھوتوں کے جداگانہ نیابت کے سوال پر کسی قسم کی بحث نہیں ہو سکتی تاہم میں مسٹر گاندھی سے گفت و شنید کرنے کے لئے تیار ہوں جب میں نے لنڈن میں مطالبہ کیا تھا کہ اچھوتوں کے لئے آئینی طور پر جداگانہ نیابت دے دی جائے۔تو مسٹر گاندھی میرے سب سے بڑے مخالف تھے لہذا اب مسٹر گاندھی کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ وہ اچھوتوں کو کیا کچھ دینے کے لئے تیار ہیں۔عین اسی روز جبکہ اچھوت لیڈر نے مندرجہ بالا اعلان کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے یہ بیان بذریعہ تار جاری کیا گیا کہ ”گاندھی جی کے اعلان پر ہندو جو جذباتی اپیلیں کر رہے ہیں اگر اچھوت ان سے متاثر ہو گئے تو اس کا انجام ان کی کامل تباہی ہو گا یہ مسائل چند مندروں کے دروازے اچھوتوں پر کھول دینے سے حل نہیں ہو سکتے۔اس سے تو صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ ابھی تک ہندوفی الواقعہ انہیں ناپاک سمجھتے ہیں۔بمبئی کے ہندو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر اچھوت ہمارے ساتھ متفق نہ ہوئے تو انہیں پچھتانا پڑے گا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی ذہنیت میں تا حال کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔وہ ادنی اقوام کے خیالات اور نقطہ ہائے نگاہ میں بنوک شمشیر تبدیلی کرانا چاہتے ہیں میرے خیال میں ہندوؤں کو تمام اپلیں صرف گاندھی جی سے کرنی چاہئیں۔جو خود کشی کا اقدام کر کے نہ صرف ہندو لاء کی نافرمانی اور اپنی انسا کی تعلیم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ تمام مذاہب کے قوانین کو بھی توڑ رہے ہیں ان کے فیصلہ کے صرف یہ معنی ہیں کہ اب انہیں خدا پر بھروسہ نہیں اور اس قدر مایوس ہو چکے ہیں کہ دنیا میں رہنا نہیں چاہتے۔اچھوت اقوام کے لئے یہ سخت نازک موقعہ ہے وہ اپنی خواہشات کو دو سروں کے لئے قربان کرنے کے عادی ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ اپنی تاریخ کے اس نازک ترین موقعہ پر بھی وہ جذبات اور دلائل میں تمیز نہ کر سکیں گے"۔حضرت اقدس نے اپنے بیان میں جس خدشہ کا اظہار فرمایا تھاوہ صحیح ثابت ہو ا چنانچہ پونا میں ۲۴/ ستمبر کو ہندو لیڈروں نے ڈاکٹر امید کر کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا۔جو برطانیہ کے وزیر اعظم نے منظور کر لیا اور گاندھی جی نے فاقہ کشی ترک کر دی۔۱۵۰ حادث بڈھلاؤ ( ضلع حصار) اور جماعت احمدیہ کی خدمات جلیلہ مشرقی پنجاب کے اضلاع حصار رہتک کرنال اور گوڑ گاؤں میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اس لئے ہندو اکثریت ان کو تباہ کرنے کے لئے اندر ہی اندر خوفناک تیاریوں میں مصروف تھی۔ہندوؤں کی اس خفیہ سازش کا پہلا نشانہ پونڈری