تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 67 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 67

تاریخ اد 14 اچھوت اقوام کی حفاظت کے لئے گاندھی جی نے بڑودہ جیل سے سرسیموئیل ہور حضرت خلیفتہ اصسیح الثانی کی اپیل وزیر ہند کے نام / مارچ ۱۹۳۲ء اور مسٹر میکڈانلڈ وزیر اعظم برطانیہ کے نام ۱۸/ اگست ۱۹۳۲ء کو خط لکھا کہ میں نے گول میز کانفرنس میں کہہ دیا تھا کہ میں زندگی بھر اچھوتوں کو جداگانہ نیابت نہ حاصل ہونے دوں گا۔چونکہ حکومت نے "کمیونل ایوارڈ" کے ذریعہ اپنے طریق کار کا اعلان کر کے اچھوتوں کے لئے جداگانہ انتخاب تجویز کیا ہے اس لئے میں ملک معظم کی حکومت کو مطلع کرتا ہوں کہ میں ۲۰ ستمبر ۱۹۳۲ء سے زندگی کے آخری سانس تک برت رکھوں گا صرف پانی پیوں گا۔اور اسی طرح جان دے دوں گا۔میری جیل سے رہائی بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو سکے گی۔وزیر اعظم نے جواب دیا کہ گورنمنٹ کا فیصلہ قائم ہے اور صرف ہندوستان کے مختلف فرقوں کے درمیان سمجھو نہ ہی اس کی جگہ لے سکتا ہے۔در اصل اچھوت اقوام کو ہندوؤں میں جذب کرنے کا یہ ایک نیا حربہ تھا جسے اچھوت اقوام کے مسلمہ لیڈر ڈاکٹر امید کرنے "سیاسی کرتب " سے موسوم کیا۔اور اعلان کیا کہ میں جداگانہ انتخاب کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔اسی طرح مسٹر آر - ایل بسواس ( جنرل سیکرٹری آل انڈیا اچھوت فیڈریشن) نے بیان دیا کہ گاندھی جی کامرن برت ہرگز جائز نہیں۔جب ہندوؤں نے خود اپنی قوم کو ذات پات کے صدہا امتیازات میں تقسیم کر رکھا ہے تو حکومت کو ہندو قوم کے انتشار کا ذمہ دار گرداننا سراسر بے سروپا اور بے معنی ہے۔علاوہ ازیں اچھوتوں نے اپنے ہزاروں کے اجتماع میں قرار داد منظور کی کہ گاندھی جی کی فاقہ کشی کے ذریعہ مرجانے کی دھمکی اچھوتوں کو فریب دینے کے لئے ایک سیاسی حربہ ہے۔ان کی خواہش ہے کہ ہمیں ابد الاباد تک ہندوؤں کی اونچی جانتیوں کا زر خرید غلام بنا دیا جائے۔سر محمد اقبال نے مرن برت کی نسبت کہا کہ فاقہ کشی کی موت نامردی کی علامت ہے اگر مجھے یہی صورت پیش آتی تو بجائے حکومت کو دھمکی دینے کے اپنی قوم کو مجبور کر تا کہ فلاں تاریخ تک اچھوتوں کے ساتھ نہ ہی اور معاشرتی مساوات شروع کر دود گر نہ جان دے دوں گا۔سر محمد یعقوب نے کہا کہ اعلیٰ ذات کے ہندو اگر گاندھی جی کی جان بچانا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ مندروں کے دروازے اچھوتوں کے لئے کھول دیں۔ہندوؤں نے مرن برت کے خلاف یہ بہیجان پایا تو بمبئی میں ہندوؤں اور اچھوت لیڈروں کی کا نفرنس منعقد کرنے کا اہتمام کیا۔ڈاکٹر امید کرنے کا نفرنس کے پہلے روز ۱۹/ ستمبر ۱۹۳۲ء کو تقریر کی کہ IFA-