تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 66 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 66

تاریخ احمدیت جلد ۷ پر جاکر اس کے مطابق بنوا ئیں۔។ - عہد والٹیر کور کے لئے یہ اقرار ہو گا ” میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اقرار کرتا ہوں کہ (۱) جو فرائض خدا اس کے رسول اور خلیفہ وقت کی طرف سے مجھ پر عاید ہیں۔میں تا مقدور انہیں سر انجام دینے کی کوشش کروں گا۔(۲) ملک میں نہ صرف خود امن سے رہوں گا بلکہ حتی الوسع دوسروں کو بھی اس کی تحریک کروں گا اور بغاوت دید امنی کا ہمیشہ مقابلہ کروں گا۔(۳) باہمی مقدمات تنازعات اور فسادات سے ہمیشہ اجتناب کروں گا۔(۴) مسلمانوں سے خصوصاً اور دیگر بنی نوع انسان سے عموماً ہمدردی کروں گا۔(۵) احمدیہ والٹیر کور کے قواعد و ضوابط کی ہمیشہ پابندی کروں گا"۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی نگرانی میں یکم ستمبر ۱۹۳۲ء کو صبح سات بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی گراؤنڈ میں احمدیہ کو ر ٹرینگ کلاس کا آغاز ہوا۔جس میں بہت سے مقامی نوجوانوں کے علاوہ بیرونی جماعتوں سے بھی تمہیں کے قریب نوجوان شریک ہوئے۔( یہ کلاس ۳۰/ ستمبر ۱۹۳۲ء کو ختم ہوئی۔کیم اکتوبر کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ڈلہوزی سے تشریف لائے تو کور نے حضور کا فوجی طریق پر شاندار استقبال کیا۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی خصوصی توجہ کی بدولت ٹریننگ کا یہ پہلا عملی مظاہرہ اس قدر عمدہ اور خوش کن تھا کہ کور کا کام دیکھ کر خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ یہ ایک ماہ کی سکھلائی کا نتیجہ ہے۔احمدیہ کور کے نوجوان اس وقت خوشنماو ردیوں میں ملبوس اپنا سبز رنگ کے کپڑے کا خاص جھنڈا لئے ہوئے تھے۔جھنڈے کے درمیان منارۃ المسیح دائیں طرف اللہ اکبر اور بائیں طرف عباد اللہ کے الفاظ لکھے ہوئے تھے جو والٹیر کا اصل نام تھا۔ایک قابل ذکر بات یہ تھی کہ قواعد سے متعلق تمام احکام انگریزی کی بجائے اردو میں دیئے جاتے تھے۔انگریزی کے فوجی الفاظ کا اردو جامہ پہنانے کا کام بھی حضرت صاجزادہ صاحب ہی نے سرانجام دیا۔اور احمدیہ کور" کے نام سے اردو احکام کا ایک کتابچہ بھی بعد کو شائع فرما دیا۔احمدیہ کور کے تنظیمی اصول و مقاصد یعنی قیام امن، مسلمانوں کے مفاد کی حفاظت اور بنی نوع انسان کی عمومی فلاح و بہبود و غیرہ بالکل واضح تھے۔مگر ہندو پریس نے اسے ایک خفیہ انقلابی تحریک سے تعبیر کیا۔چنانچہ اخبار " لماپ " (لاہور) نے ۱۰ / جون ۱۹۳۳ء کی اشاعت میں لکھا۔گورنمنٹ کو بھی اور عوام کو بھی احمدیوں کی فوج کی طرف ضرور متوجہ ہونا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ یہ فوجی تیاریاں بظا ہر چاہے کچھ کہیں لیکن اپنے اند راصلی غرض وغایت کیا رکھتی ہیں"۔ہندوؤں کے اس پروپیگنڈا کو مجلس احرار اسلام نے خوب ہوا دی۔اور اسے حکومت کو جماعت احمدیہ کے خلاف ابھارنے کے لئے ایک کامیاب حربہ کے طور پر استعمال کیا۔۱۳