تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 60 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 60

تاریخ احمدیت جلد ۶ لالچ کے کریں اور مسلمانوں کے حقوق حاصل ہونے کے لئے جو خدمت ان سے ہو سکے کرتے رہیں لیکن اس قدر احتیاط ضرور کی جائے کہ جس کام میں ہم شریک ہوں یہ حیثیت جماعت ہوں انفرادی طور پر نہیں اور مالی امداد بھی اسی طرح دی جائے۔- اس ضمن میں حضور نے احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف بھی توجہ دلائی کہ : "ایک طرف میں کانگریس کو دیکھتا ہوں کہ اس کے اصول اتنے خطرناک اور فساد پیدا کرنے والے ہیں کہ اگر ہم انہیں مان لیں تو بجائے دنیا میں امن قائم ہونے کے فتنہ و فساد پھیل جائے دوسری طرف میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو گورنمنٹ کے خیر خواہ کہلاتے ہیں کہ وہ حد درجہ کے لالچی دنیا دار خود غرض اور قوم فروش ہیں۔الا ماشاء اللہ میں کسی قوم کے تمام افراد کو ایسا نہیں سمجھتا۔اس کے مقابلہ میں کانگریس کے ایک طبقہ کو دیکھتا ہوں کہ اس میں ایثار قربانی اور سچا اخلاص پایا جاتا ہے۔بے شک کانگریسیوں کے اصول سے مجھے اختلاف ہے لیکن اگر میرے سامنے ذاتی دوستی کا سوال ہو تو میں ایک کا نگریسی کو گورنمنٹ کے خوشامدی پر ترجیح دوں گا۔ایک طرف ہمارے اندر ایسا ایثار قربانی اور ملکی محبت کا مادہ ہونا چاہئے جو کانگریسیوں سے بھی بڑھ کر ہو اور دوسری طرف ہمارے اصول وفاداری ایسے پختہ بنیادوں پر قائم ہوں کہ وہ ہر قسم کے خوشامدی لوگوں کے اصول سے بلند ہوں۔ہمیں گورنمنٹ کے ان خوشامدیوں سے شدید نفرت ہونی چاہئے اور ہمیں کانگریس کے اصول سے بھی شدید نفرت ہونی چاہئے ہمارا معیار اس قدر بلند ہونا چاہئے۔کہ ہم کسی خدمت کے بدلہ کسی معاوضہ کے طلبگار نہ ہوں اور اپنے ملک کو بدامنی سے بچانے کے لئے کانگرسیوں سے بڑھ کر ایثار اور قربانی سے کام کریں"۔میں اگر کانگریسیوں کے مقابلہ کے لئے کہتا ہوں تو کانگریسی اصول کے لحاظ سے ورنہ دوستی کے لحاظ سے میں انہیں بہت بہتر سمجھتا ہوں اور ان کی ذات سے دشمنی رکھنا غلطی سمجھتا ہوں۔نہ انگریز ہمارے سگے بھائی ہیں۔نہ کانگریسی سوتیلے بھائی۔دونوں ہمارے بھائی ہیں۔۔۔۔۔۔اور میرے دل میں ہر قوم کے اچھے لوگوں کی عزت ہے چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہندو یا انگریز۔ہاں جو لوگ غلط طریق اختیار کریں۔ہم ایسے لوگوں کے اس طریق کو برا کہیں گے۔پس ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ ہم پیار محبت اور استقلال کے ساتھ ان خلاف آئین تحریکوں کا مقابلہ کریں۔میں اپنی جماعت کے تمام افراد کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جہاں کہیں ہوں انار کسٹوں کی تحریک کی نگرانی رکھیں اور یہ کبھی خیال نہ کریں کہ اس کے بدلہ میں گورنمنٹ سے انہیں کیا ملے گا۔میں تو جب کسی کے منہ سے ایسی بات سنتا ہوں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری کمر ٹوٹ گئی دراصل یہ ہمارا اپنا کام ہے گورنمنٹ نے ملک سے فتنہ و فساد کو