تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 61
تاریخ احمدیت جلد ۷ روکنے کے ذمہ داری خود اپنے اوپر لی ہے اور ہم پر فتنہ و فساد کے روکنے کی ذمہ داری اللہ تعالٰی نے ڈالی ہے "۔a صوفی عبد القدیر صاحب نیاز کا سفر بنگال دہشت پسندوں اور انار کٹوں کا ایک بہت بڑا اور مضبوط مرکز بنگال تھا۔لہذا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بنگالی مسلمانوں کو اس خوفناک تحریک سے الگ رکھنے اور انہیں سیاست اسلامیہ کے قومی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے دسمبر ۱۹۳۲ء میں صوفی عبد القدیر صاحب نیاز کو بھجوایا۔صوفی صاحب نے حضور کی ہدایات کے ماتحت اگست ۱۹۳۳ء تک کام کیا۔آپ کے مشن میں بعض خاص اموریہ تھے۔بنگالی مسلمانوں کو اردو کے ساتھ مانوس کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ اہل بنگال کو اردو کے مقابل بنگالی زبان سے تعصب کی حد تک پہنچی ہوئی غالیانہ محبت تھی جس کی تلخی اور شدت کو کم کرنا حضور کی دانست میں اس خطے کے مسلمانوں کے سیاسی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری اور لازمی تھا۔مسلمانوں میں سیاسی بیداری اور شعور پیدا کیا جائے۔مسلمان ملازمین کی حق تلفی کا ازالہ کیا جائے اور مسلمانوں کو خاص ملازمتیں دلوانے میں مدد دی جائے۔ان تمام تحریکوں کا مقابلہ جو ملکی امن برباد کرنے والی ہوں جس کی بعض صورتیں یہ ہو سکتی تھیں۔(الف) قیام امن کے لئے ان لوگوں سے کام لیا جائے جن کا ابتداء ہی سے حکومت سے کوئی علاقہ نہیں۔(ب) ایک مسلم کو ر کی تشکیل کی جائے جس کا کام فوجی ٹریننگ ، میلوں اور جلسوں اور کھیلوں کا انتظام ہو۔اسی طرح بچوں کی بازیابی اور آگ بجھانے کی خدمت بھی اس کے سپرد ہو۔کو رکے ہر ممبر کو کوئی پیشہ سکھانے کی کوشش کی جائے اور شادی بیاہ میلہ ولادت اور عید الاضحیہ اور تنخواہ کی ترقی کے مواقع پر فنڈ جمع کیا جایا کرے۔(ج) انار کرم کا مقابلہ کرنے والوں کو ابھارا جائے۔(1) معین انارکسٹوں کے دوستوں میں سے ممبروں کی تلاش کی جائے۔(ھ) سکول کے امتحانوں کے پرچے دیکھے جائیں کہ آیا استاد لیاقت پر نمبر دیتے ہیں یا باغیانہ خیالات کی بناء پر۔