تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 59 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 59

تاریخ احمدیت جلد 1 ۵۹ دوسرے مخالفین سے خواہ کس قدر زبر دست کیوں نہ ہوں ڈرتے رہو گے اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے۔بلکہ مشرک رہو گے اور تمہارا ٹھکانہ جنت نہیں جنم میں ہو گا لیکن جس دن تمہارے دلوں سے فوج، پولیس، مالدار لوگوں اور دوسرے فتنہ انگیز مفسد طبقات کا ڈر اور خوف نکل گیا اور جس دن تم اکیلے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کو خوش نصیبی اور موت کو راحت کا پیغام سمجھنے لگے اور نفس کی حفاظت صرف حکم الہی کی تعمیل میں کرنے لگ گئے اس دن اور صرف اس دن تم ایمان کے رستہ پر چلنے والے ہو گے"۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے حقوق کے حصول کا سوال ہے۔جہاں ہمارا یہ فرض ہے کہ قیام امن کے لئے حکومت کو مدد دیں۔۔۔۔وہاں یہ بھی فرض ہے کہ مسلمانوں کی بھی خدمت کریں جو اس وقت ذلیل ہو رہے ہیں اور حصول حقوق کے لئے ہر قربانی کرنے پر آمادہ ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالٰی نے فتنہ کو دور کرنے کے لئے راستے رکھے ہیں اور ایسے راستے موجود ہیں کہ بغیر قانون شکنی کے ظالم سے ظالم انسان سے بھی اپنا حق انسان لے سکے بعض قانون ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ انہیں نہ مانا جائے مثلاً کوئی حکومت اگر یہ کہے کہ نماز نہ پڑھو تو ہم ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔۔۔۔مکہ والے رسول کریم ﷺ کو عبادت الہی سے روکتے تھے۔ا اگر چہ آپ ان کا مقابلہ نہ کرتے لیکن نمازیں برابر پڑھتے تھے اسی طرح تبلیغ ہے اگر حکومت اس سے روکے تو اگر چہ اس کے مقابل پر ہم تلوار نہیں اٹھائیں گے لیکن تبلیغ ضرور کرتے رہیں گے اور ایسے احکام اگر انگریزی حکومت دے تو ہم ضرو ر اس کی نافرمانی کریں گے لیکن یہاں کوئی ایسا قانون نہیں کہ سول نافرمانی کو جائز سمجھا جا سکے۔۔۔ہندوستان کے لئے حقوق طلبی میں ہم کسی سے پیچھے نہیں اگر جا کر نڈر پر حکومت کا مقابلہ کیا جائے تو ہم گاندھی جی کے دوش بدوش کام کرنے کو تیار ہیں۔لیکن ناجائز طریق اگر ہمارا بھائی بھی اختیار کرے تو ہم اسے صاف کہہ دیں گے کہ تم بے شک ہمارے بھائی ہو لیکن اس معاملہ میں ہم تمہار ا ساتھ نہیں دے سکتے۔پس اس امتیاز کو سمجھو اور دونوں فتنوں کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کرو۔۔۔جس جس رنگ میں کوئی ملک و قوم کی خدمت کر سکے ضرور کرے مثلاً سرکاری ملازم جلسوں وغیرہ میں شامل نہیں ہو سکتے ان کے لئے خدمت کا یہی طریق ہے کہ وہ حکومت کے ذمہ دار ارکان کے سامنے صحیح واقعات رکھ دیا کریں۔خواہ وہ حالات حکومت کے خلاف ہوں یا پبلک کے۔میں نے دیکھا ہے پولیس والے جھوٹی رپورٹیں کرتے رہتے ہیں۔یہ حکومت سے دشمنی ہے چاہئے کہ جو صحیح بات ہو پیش کر دی جائے۔اس سے کوئی حاکم ناراض نہیں ہو سکتا بلکہ انصاف والا افسر تو اس کی قدر کرے گا۔باقی لوگ جو ملازم نہیں وہ جائز حقوق کے حصول کے لئے کوشش کریں۔لیکن ساتھ ہی کانگریس اور انارکسٹوں کا مقابلہ بھی بغیر کسی ڈر اور