تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 58
تاریخ احمد بیت - جبله ۵۸ پہلا باب (فصل سوم) ہندوستان کا سیاسی فتنہ اور حضرت آل انڈیا نیشنل کانگریس نے (مسلمانوں کے مفاد امام جماعت احمدیہ کی راہنمائی کو نقصان پہنچانے اور انگریزی حکومت کے بعد تنها اقتدار سنبھالنے کی غرض سے ) ۱۹۳۰ء میں سول نافرمانی کا جو پروگرام جاری کر رکھا تھا۔اس نے ۱۹۳۲ ء میں خطرناک صورت اختیار کرلی اور شورش بد امنی ، انار کزم اور قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے قیام امن کے لئے متواتر خطبے دیئے اور جماعت احمدیہ کو مسلمانان ہند کے قومی حقوق کی حفاظت و حصول میں ہر ممکن قربانی پیش کرنے کی ہدایت فرمائی چنانچہ حضور نے ارشاد فرمایا۔اس وقت یہاں بہت سے فتنے ہیں ایک تو مسلمانوں کی حق تلفی کا سوال ہے اور دوسرے حکومت کے خلاف شورش۔اس حکومت کو خواہ غاصبانہ ظالمانہ یا غیر ملکی کہہ لو۔لیکن بہر حال ملک کا انتظام اس کے ہاتھ میں ہے اسے ایسے طور پر تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے ملک کے اخلاق بگڑ جا ئیں اور عام بد امنی شروع ہو جائے اور یہ ایسی باتیں ہیں۔جن سے ملک کا کوئی حقیقی خیر خواہ آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ان دونوں فتنوں کا مسلمانوں کو ہو شیاری سے مقابلہ کرنا چاہئے۔۔۔۔۔ملک میں قیام امن خداتعالی کا حکم ہے پس اگر انگریز خود امن نہ بھی قائم کریں۔جب بھی ہمیں چاہئے کہ اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر بھی اسے قائم کریں۔اور یہ انگریز کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے لئے اور اپنی اولادوں کو بد اخلاقی سے بچانے کے لئے ہے اگر کسی وجہ سے ہم اس فرض سے دستکش ہو جا ئیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نادانی کی وجہ سے ہم اپنی اولادوں کو بگاڑتے ہیں۔اور اس میں انگریز کا نہیں ہمارا اپنا نقصان ہے۔۔۔۔۔۔جائز حقوق حاصل کرنے کے لئے ناجائز ذرائع اختیار کرنا کسی صورت میں بھی مناسب نہیں۔جو قوم جائز ذرائع سے جد وجہد کرتی ہے اور صداقت کے ساتھ اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے ساری دنیا کی حکومتیں مل کر بھی اسے محروم نہیں رکھ سکتیں جو حکومت رعایا کے بیدار جذبات کا لحاظ نہیں کرتی اور اسے خوش رکھنے کی کوشش نہیں کرتی وہ خود بخود تباہ ہو جائے گی اس لئے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں پکننگ اور سول نافرمانی وغیرہ تحریکات کا پورے زور کے ساتھ مقابلہ کرو۔۔۔۔کسی سے مت ڈرو یا د رکھو کہ جو انسان سے ڈرتا ہے وہ مشرک ہے۔۔۔۔پس یا د رکھو جس دن تک تم انگریز - کانگریس یا