تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 520 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 520

تاریخ احمد بیت جلد ؟ 0۔4 بخود مسجد حوالہ کر دیں گے"۔اصل بات تو یہی تھی مگر حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لئے احراری لیڈروں نے کئی بہانے تراشے۔مثلاً چودھری افضل حق صاحب نے کہا۔" بحالات موجودہ ہندوستان کا آزاد ہو نا آسان ہے۔مگر مسجد کا واگزار ہونا مشکل ہے۔کیونکہ مسجد کی بحالی کے لئے انگریز کی گولی ، سکھ کی کرپان ہندو کے سرمایہ کا مقابلہ کرنا ہو گا "۔پھر انگریزی عدالتوں کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا۔" ہر چند مسجد کا معالمہ اور شریعت کا مسئلہ تھا تا ہم انگریزی عدالتوں کا قانون گوارا کر کے یہ ظاہر کر دیا گیا کہ مسلمان اپنے تمام مذہبی احساسات کے باوجود غیر مسلم کے معاملہ میں غیر مسلم عدالتوں کے فیصلہ کا احترام کرنے کو بھی تیار ہیں۔یہی اسلام کی ہمیشہ کی سپرٹ تھی اور خدا کے فضل سے اب بھی وہ قائم ہے۔نیز سول نافرمانی کو بے فائدہ قرار دیتے ہوئے یہ دلیل دی کہ۔”ایک سو ستر سال کے مخالفانہ قبضہ کو سول نافرمانی کے ذریعہ سے مسترد کرنے کی کوشش کرنا انگریزی حکومت میں صولت فاروقی کے خواب دیکھنے سے کم نہیں"۔اس عذر پر مسلمانوں کی طرف سے پر زور سوال اٹھایا گیا کہ ”اگر کشمیر کے معاملے میں سول نافرمانی سکتی تھی تو مسجد شہید گنج کے لئے کیوں نہیں ہو سکتی۔اس کا جواب احراری لیڈر مولوی مظہر علی صاحب اظہر نے یہ دیا کہ۔۔۔۔اگر 9 کروڑ مسلمان بھی مسجد شہید گنج کے لئے سول نافرمانی کریں تو حکومت کا کام ہو گا۔کہ وہ ان کی بات کو نہ مانیں۔اگر ایک مرتبہ انگریزی حکومت اس اصول کی خلاف ورزی کرے تو اسے ہر حصہ ملک میں شدید ہنگامہ آرائیوں اور بغاوت و غدر کا مقابلہ کرنا ہو گا۔اس لئے حکومت سے اس بارے میں کسی ہمدردی یا امداد کی توقع رکھنا ایک امید موہوم ہے "۔ہو سکھوں اور ہندوؤں سے احرار مولوی مظہر علی صاحب اظہر کے دو اہم خطوط لیڈروں کی سازش بعد کو مولوی مظہر علی صاحب اظہر کے مندرجہ ذیل دو خطوط سے بالکل ظاہر ہو گئی جو انہوں نے انہی دنوں چوہدری افضل حق صاحب کے نام گورداسپور سے لکھے تھے اور جن کا چربہ کا مرید محمد حسین صاحب امرتسری نے اشتہار کی شکل میں بکثرت شائع کر دیا تھا۔ان اہم خطوط کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔پہلا خط گورداسپور ۲۴/ جولائی ۱۹۳۵ء برادر مکرم چودھری صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔