تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 519
تاریخ احمدیت - جلد 4 ۵۰۵ دارانہ کشیدگی میں بظاہر نسبتاً سکون نظر آنے لگا۔لیکن 19 جولائی کو حالات نے تشویشناک صورت اختیار کرلی۔اس روز شاہی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد مسلمانوں کا ایک جلوس شہر کی طرف روانہ ہوا۔جو سرکاری بیان کے مطابق مسجد شہید گنج کی طرف جانا چاہتا تھا پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے اسے روک لیا اور لاٹھی چارج کر دیا۔تین چار دفعہ لاٹھی چارج کئے جانے کے باوجود جلوس منتشر نہ ہوا۔بلکہ جلوس کے تمام آدمی زمین پر لیٹ گئے اور وہیں پڑے رہے۔دیر کے بعد آگ بجھانے والے انجن سے پانی کی بوچھاڑ کی گئی اور پولیس نے کئی مسلمانوں کو گرفتار کرنا چاہا لیکن بعض افراد کے گرفتار ہونے کے بعد لوگوں نے مزاحمت شروع کی اور خود بخود پولیس کی لاریوں میں بیٹھنے لگے۔آخر پولیس نے تنگ آکر گرفتار کرنا چھوڑ دیا۔لوگوں نے لاریوں کے ٹائر پھاڑ دیئے غرض یہی صورت ساری رات قائم رہی۔نہ جلوس منتشر ہوا۔نہ صورت حال میں کوئی تبدیلی ہوئی۔دو سرے دن ۲۰/ جولائی کو ریلوے کارخانوں میں تعطیل تھی۔اس لئے جلوس میں بہت سے افراد کا اضافہ ہو گیا اور وہ آہستہ آہستہ دہلی دروازے کے بعد کو توالی کے عین سامنے پہنچ گیا جہاں سے مسجد شہید گنج " قریباً ڈیڑھ فرلانگ پر ہے۔کو توالی کے سامنے مقامی افسروں کی ایک تعداد پولیس کی ایک بڑی جمعیت کے ساتھ موجود تھی۔لنڈا بازار کی طرف جانے والے راستے پر زبر دست فوجی پہرہ تھا۔ہر چند کوشش کی گئی مگر جلوس منتشر نہ ہوا بلکہ زخمیوں کو دیکھ کر اور بھی مشتعل ہو گیا۔آخر پونے نو بجے گولی چلا دی گئی بہت سے مسلمان مجروح اور چار جاں بحق ہو گئے۔جس سے مسلمانوں میں زبر دست بہیجان پید ا ہو گیا۔عام مسلمانوں کا خیال تھا کہ احرار شہید گنج کے حادثہ خونین پر مسلمانوں کی قیادت کے فرائض انجام دیں گے لیکن عملاً ہوا یہ کہ مسلمانوں کا خون بہایا جاتا رہا۔مگر احرای لیڈر اپنے دفتر میں جو (مسجد شہید گنج سے قریب ہی تھا نہ صرف آرام سے بیٹھے رہے۔بلکہ مسجد پر قربان ہو جانے والے مسلمانوں کو حرام موت مرنے والا قرار دے دیا۔اور اس افسوسناک طرز عمل کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ کانگریس کے پروگرام کے مطابق آئندہ (انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے تحت ہونے والے) ملکی انتخابات کے لئے راہ ہموار کر رہے تھے اور اس بارے میں پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں سے در پردہ گٹھ جوڑ کر چکے تھے۔چنانچہ احراری لیڈروں نے ” پسر در تبلیغ کا نفرنس میں صاف طور پر کہہ دیا کہ۔”ہمارے سامنے قادیانیوں کی مخالفت اور کونسل کا پروگرام ہے۔اس لئے ہم ایسی تحریک میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں جس سے شمولیت کے ساتھ ہی جیل کی ہوا کھانی پڑے اور یہ پروگرام ادھورے رہ جائیں۔ہم غلام ہیں۔ہماری مسجدیں کیسے آزاد رہ سکتی ہیں صبر سے کام لینا چاہئے۔سکھ خود