تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 521 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 521

تاریخ احمدیت۔جلده ۵۰۷ میں دورہ سے واپسی پر دفتر پہونچا۔لیکن آپ موجود نہ تھے زبانی طور پر تمام واقعات مولوی محمد شفیع صاحب سے کہہ آیا تھا۔غالبا انہوں نے تمام نشیب و فراز بیان کر دیئے ہوں گے۔احتیاطاً دوبارہ عرض کرتا ہوں۔۱۲ جولائی کا شاھی مسجد کا اعلان بہت مفید ثابت ہوا ہے پبلک کارجحان ہماری طرف پلٹ چکا ہے۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہر تیسرے چوتھے دن کے بعد ایسا ہی ہنگامہ خیز بیان شائع کر دیا جایا کرے۔تاکہ مولوی ظفر علی خاں یا اس کی پارٹی سے عامتہ المسلمین کٹ جائیں۔مکمل قبضہ و اقتدار حاصل ہو جانے کے بعد یہ ایجی ٹیشن فورا ختم کی جاسکتی ہے یہ مانا کہ مسجد کا معاملہ نہایت اہم ہے۔مگر اس میں حصہ لینے سے اگر کامیابی ہو بھی گئی تو نام ظفر علی خاں کا ہو گا۔کیونکہ اس تحریک کا قائد وہی تسلیم کیا جا چکا ہے اور ہمارا اور مجلس کا وقار سخت خطرے میں پڑ جائے گا اور اکیلے ظفر علی خاں کی کامیابی بہت مشکل ہے۔شاہ صاحب کو ہر ممکن طریقے سے یقین دلائیں کہ مسجد ایجی ٹیشن میں شامل ہونے سے جماعت فنا ہو جائے گی۔انہیں مذہبی رنگ میں ہی قائل کیا جا سکتا ہے۔مولانا حبیب الرحمن سے معلوم ہوا کہ اعلان پڑھنے کے بعد کچھ نرم ہو رہے ہیں اور انفرادی طور پر متعدد آدمیوں سے ایجی ٹیشن میں شامل ہونے کا وعدہ بھی کر چکے ہیں۔خدا کے لئے انہیں سمجھائیے۔ان کی شمولیت سے ہماری تمام سکیم فیل ہو جائے گی۔مجلس مشاورت کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکا۔امید ہے کہ آپ نے حسب منشاء کار روائی کرالی ہو گی۔احقر مظہر علی اظہر " دو سراخط: گورداسپور ۱۸ ستمبر ۱۹۳۵ء- برادر مکرم چودھری صاحب! السلام علیکم و رحمتہ اللہ میں آپ کے اس خیال سے حرف بحرف متفق ہوں کہ پیر صاحب کی مخالفت نہ کی جائے کیونکہ اس وقت قوم ان کے ساتھ ہے۔نیز یہ مسلمہ بات ہے کہ وہ سول نافرمانی نہیں کریں گے اس لئے ان کی حمایت کرنے میں ہی ہماری بہتری ہے۔۱۵ ستمبر کو پیر صاحب لاہور آ رہے ہیں اپنے ورکرز کو ہدایت کر دیں کہ یہ جلسہ کامیابی سے ہونے دیں۔نیز "مجاہد " میں نہایت تریز کے ساتھ مخالفت بھی جاری رکھی جائے۔اور اس جماعت میں اپنے آدمی بھی شامل کر دیئے جائیں۔تاکہ ان کی ہر سرگرمی سے بھی اطلاع ہوتی رہے اور وقت آنے پر یہ عمارت فور اگرائی جاسکے۔مگر کوئی کچا آدمی ان کے نزدیک تک بھی نہ جانے دیا جائے۔شاہ صاحب سے