تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 514 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 514

تاریخ احمدیت جلد ۷ عید گاہ اور دوسری احمدی عمارتیں گرادی جائیں تو وہ مہتہ عبد الرزاق صاحب فوٹو گرافر کوان عمارتوں کا فوٹو لینے کے لئے عید گاہ میں لے گئے جہاں ایک احراری نے حملہ کر دیا کیمرہ توڑ ڈالا اور دونوں کو دھکے دیئے۔قادیان کے محلہ ریتی چھلہ کا ایک قطعہ مسجد کے لئے مخصوص کیا جا چکا تھا۔اس لئے احمدیوں نے اس میں نماز پڑھنی شروع کر دی تھی۔یہ دیکھ کر مخالف بھی اسی قطعہ کے قریب حصہ شاملات میں نماز پڑھنے لگے۔اور ۴/ جولائی ۱۹۳۵ء کی رات کو ایک جلسہ میں دھمکی دی کہ ہم 1 احمدیوں کے ان مقامات پر قبضہ کرلیں گے۔۷۴ جولائی ۱۹۳۵ء کو احرار نے شاملات قصبہ پر اینٹیں ڈلوا کر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔۸۵ جولائی ۱۹۳۵ء کو پونے تین بجے بعد دو پھر قادیان کے ایک احمدی خوشی محمد صاحب ولد نبی بخش صاحب مجروح کئے گئے اور ان کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے۔۱۳۹۵ ۳۹۴ کئی ہفتوں سے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب پر قاتلانہ حملہ محسوس ہونے والا خطرہ آخر ۸ / جولائی ۱۹۳۵ء کو ظہور پذیر ہو گیا یعنی اس روز شام کے چھ بجے کے قریب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لخت جگر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب پر جبکہ آپ اپنے دفتر (نظامت خاص) سے اپنے مکان کی طرف بائیکل پر تشریف لے جارہے تھے قاتلانہ حملہ کر دیا گیا۔حملہ آور قادیان کے ایک تکیہ کے فقیر کا بیٹا اور ایک آوارہ گرد شخص تھا۔جس نے دھات کا سم چڑھی لاٹھی سے حضرت صاحبزادہ صاحب پر اچانک وار کر دیا اس بدبخت کا ارادہ قتل کرنے کا تھا مگر آپ چونکہ سائیکل پر تھے لٹھ کرتے کرتے آپ آگے نکل گئے اور لٹھ پشت پر پڑا۔آپ فورا اتر کر حملہ آور کی طرف ہوئے تو اس نے دوسری ضرب پھر سر پر ماری لیکن آپ نے اسے نہایت جانبازی اور بہادری کے ساتھ اپنے ہاتھ سے تھام لیا حملہ آور بھاگ گیا اور آپ خدا کے فضل وکرم سے معجزانہ طور پر بچ گئے ورنہ اس ظالم و سفاک نے کوئی کسر اٹھانہ رکھی تھی۔اس المناک واقعہ کی خبر آگ کی طرح پہلے قادیان میں اور پھر سارے ملک میں پھیل گئی اور جس جس احمدی کے کانوں تک پہنچی دنیا اس کی نظروں میں تاریک ہو گئی۔ہر جگہ کہرام مچ گیا بہتوں کی بے اختیار چیخیں نکل گئیں اور وہ زار و قطار رونے لگے۔قلم اس زبر دست جوش اور ہیجان کا نقشہ کھینچنے سے قاصر ہے جو اس ظلم و ستم اور وحشت و بربریت کے نتیجہ میں احمدیوں کے قلوب میں پیدا ہو گیا۔مگر ان قیامت خیز لمحات میں بھی جماعت احمدیہ