تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 513
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۹۹ احمدیوں کو زدو کوب بھی کیا۔اس کے بعد اور مزدور بھیجے گئے جنہیں نئی نوکریاں اور کرالیں دی گئیں اتنے میں پولیس بھی انچارج چوکی کی زیر سر کردگی پہنچ گئی۔مزدوروں نے ابھی مٹی کی دو ایک ٹوکریاں ہی ڈالی ہوں گی کہ احرایوں نے (جو پہلے حملہ کے بعد دور جا کھڑے ہوئے تھے) آگے بڑھنا شروع کر دیا ساتھ ہی انچارج پولیس سپاہیوں سمیت آگے بڑھے اور صدر انجمن احمدیہ کے مختار (منشی محمد الدین صاحب ملتانی کو نہایت گندی اور نخش گالیاں دیتے ہوئے ہتھکڑی لگالی اور گولی چلانے کی دھمکی دی۔اس کے بعد مالکان دیہہ کے مختار عام کو بھی (جو ایک معمر بزرگ تھے اور اس موقعہ پر موجود تھے) ہتھکڑی پہنا دی ساتھ ہی ان چار نوجوانوں کو جو کیمرہ کے ذریعہ تصویر لینے کے لئے وہاں بھیجے گئے تھے گرفتار کر لیا گیا اور ان کے کیمرے ضبط کر لئے۔مگر اس کے مقابل حملہ آور احراریوں میں سے صرف چار زیر حراست لئے گئے۔اور پولیس نے یہ کارنامہ دکھانے کے بعد احمدیوں کو ہتھکڑی لگائے ہندو بازار میں سے گزارا دس بجے کے قریب مجسٹریٹ علاقہ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس پہنچ گئے مگر مظلوم احمدیوں کی کوئی داد رسی نہ ہوئی اور نہ انہیں اپنی عید گاہ کی مرمت کرنے کی اجازت مل سکی۔عید گاہ میں گرفتار شدہ احمدی مجسٹریٹ صاحب علاقہ بٹالہ کے سامنے پیش کئے گئے جہاں سے وہ ضمانت پر رہا ہوئے اور بالاخر بے قصور ثابت ہو کر بری کر دیئے گئے۔اس مقدمہ میں بھی شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور ، مرزا عبد الحق صاحب پلیڈ ر گورداسپور اور مولوی فضل الدین صاحب پلیڈر نے قابل قدر خدمات انجام دیں۔عید گاہ میں مداخلت کے بعد قادیان میں فتنہ نے بہت زور جو رو جفا کے واقعات میں اضافہ پکڑ لیا اور ۱۵ جون کو بعض احراریوں اور ہندوؤں سے سنا گیا کہ اب احمدیوں کے گلے زبر دستی پڑ جانا چاہئے۔تا کسی طرح فساد ہو جائے۔اس بناء پر خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب نے ۲۷/ جون ۱۹۳۵ء کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس بٹالہ کیمپ ، مقامی حکام اور صوبہ کے اعلیٰ حکام کو مطلع کیا کہ ہمیں بعض ذرائع سے یہ علم ہوا ہے کہ ہمارے پیارے امام اور دو سرے قابل احترام بزرگ ہستیوں نیز احمدی مستورات پر حملہ کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔اس کے بعد چند ہفتوں کے اندراندرجود اقعات وقوع پذیر ہوئے ان میں سے بعض کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ایک شام کو جبکہ مسجد نور میں ایک پبلک جلسہ ہو رہا تھا قادیان کے تمام احراری اور بعض ہندو سکھ عید گاہ میں جمع ہوئے ان کا ارادہ تھا کہ عید گاہ کی دیوار اور منبر کو گر اگر بعض فرضی قبریں بنا دی جائیں لیکن وقت پر اطلاع پہنچ جانے کی وجہ سے وہ اپنے منصوبہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔- میاں عبد اللہ صاحب کشمیری عرف عبدل کو جب معلوم ہوا کہ احراریوں کا منشا یہ ہے کہ احمدیہ