تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 515
تاریخ احمد بہت جلد ؟ ۵۰۱ نے اپنے محبوب آقا کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے صبر و ضبط اور متحمل وبردباری کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔حق یہ ہے کہ اگر حضرت امیر المومنین کے فرمان مبارک کی وجہ سے احمدیوں کے ہاتھ جکڑے نہ ہوتے تو اس دن قادیان کی سرزمین میں سچ مچ خون کی ندیاں بہہ جائیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب پر حملہ قادیان میں فساد کرانے کے لئے شرمناک سازش کوئی انفرادی نوعیت کا فعل نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سکیم کا نتیجہ تھا جس کے پیچھے قادیان میں فساد کرانے کی سازش کار فرما تھی۔جیسا کہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۲ جولائی ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ - " وہ حملہ جو میاں شریف احمد صاحب پر کیا گیا ہے ہمیں عقل و جذبات کا توازن قائم رکھتے ہوئے اس کے متعلق سوچنا چاہئے کہ یہ انفرادی فعل تھا یا سازش کا نتیجہ تھا۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس فعل کی نوعیت بتاتی ہے کہ یہ فعل انفرادی نہیں تھا۔نہ کوئی جھگڑا ہوا نہ فساد۔اور نہ حملہ آور سے کوئی لین دین کا معاملہ تھا راستہ چلتے چلتے اس شخص نے حملہ کر دیا۔اب سوال یہ ہے اگر یہ فعل انفرادی نہ تھا تو پھر کیا یہ فعل صرف انگیخت کا نتیجہ تھا؟ یا سازش کا؟ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان کسی کو کہتا تو کچھ نہیں مگر ایسی جوش کی باتیں کرتا ہے کہ دوسرے کو خواہ مخواہ غصہ آجاتا ہے اور وہ کوئی ناروا حرکت کر بیٹھتا ہے۔یہ تو ہے ا نکیت اور سازش یہ ہے کہ کسی خاص آدمی کو خاص کام کے لئے متعین کر دیا جاتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس فعل میں ا نکیت ضرور تھی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ ایام میں قادیان میں ایسی تقریریں کی گئیں جن میں بار بار سلسلہ کے ارکان اور مقدس مقامات پر حملہ کرنے کی تحریکیں کی گئی تھیں۔ہمیں اس کی رپورٹیں برابر پہنچتی رہی ہیں اور اگر میں غلطی نہیں کرتا تو حکومت کے پاس بھی ضرور پہنچی ہوں گی کیونکہ اس کے ایجنٹ بھی یہاں موجود ہیں ان تقریروں میں صاف لفظوں میں ہمارے خاندان کا نام لے لے کر اور مقدس مقامات کا نام لے لے کر جوش دلایا گیا۔پس اگر اس کے لئے کوئی باقاعدہ سازش نہ کی جاتی تو ان تقریروں کے نتیجہ میں بھی بہت حد تک اس قسم کے حملہ کا امکان تھا لیکن میں بتاتا ہوں کہ معاملہ اس سے بھی بڑھ کر ہے اور یقینا سازش کا نتیجہ ہے۔آج سے دو ماہ پہلے سے مجھے اطلاعات مل رہی تھیں کہ احمدی زعماء پر عموماً اور مرزا شریف احمد صاحب پر خصوصا حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ان رپورٹوں میں اس گلی کا ذکر بھی تھا۔جہاں حملہ ہوا۔پھر اس رپورٹ میں تجاویز تک بنادی گئی تھیں۔اور لکھا تھا کہ ایک تجویز تو یہ ہے کہ ایک آدمی لٹھ لے کر حملہ کر دے اور ایک تجویز یہ بھی تھی کہ عورتیں رستہ میں کھڑی ہو کر گالیاں دیں اور پھر چمٹ جائیں اور گھسیٹ کر اندر لے جائیں اور کہیں کہ ہم پر حملہ کیا گیا تھا۔پہلے جب یہ رپورٹ پہنچی تو ہم نے اسے