تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 441
۴۲۷ تاریخ احمدیت جلد ۷ چھٹی ہدایت بیرونی مخالفین نے فتنہ برپا کرنے کے لئے شروع ہی سے بعض منافقین کو آلہ کا ربنا لیا تھا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس پہلو کی طرف بھی توجہ دی اور اس تعلق میں جماعت کو خاص طور پر تاکید فرمائی کہ ان سے ہوشیار رہیں۔چنانچہ فرمایا۔میں نے متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ جب بھی کوئی فتنہ اٹھتا ہے۔منافقوں کے ذریعہ اٹھتا ہے اور میں نے ہمیشہ جماعت سے کہا ہے کہ منافقوں کو ظاہر کرو اور ان کی پوشیدہ کارروائیوں کو کھولو۔مگر جماعت اس طرف توجہ نہیں کرتی۔مجھے اچھی طرح معلوم ہے ایک درجن سے زائدہ آدمی قادیان میں ایسے رہتے ہیں جن کی مجالس میں فتنہ انگیزی کی گفتگو میں ہوتی رہتی ہیں اور جو باہر سے آنے والوں کو ورغلاتے رہتے ہیں۔مجھے شریعت اجازت نہیں دیتی کہ میں بغیر ثبوت قائم کئے انہیں سزا دوں۔اس لئے میں خاموش رہتا ہوں مگر میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایسے منافقوں کا پتہ لگا کر ان کی منافقت کا میرے سامنے ثبوت مہیا کرے تاکہ میں ان اختیارات کو استعمال کروں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیئے ہیں بعض دفعہ کسی عدالتی ثبوت کے بغیر یونہی میرے پاس ایک بات بیان کر دی جاتی ہے۔میں سمجھ رہا ہو تا ہوں کہ شکایت کرنے والا سچ کہہ رہا ہے مگر جب میں اسے کہتا ہوں کہ اس کا ثبوت مہیا کرو تو وہ شکوہ کر کے چلا جاتا ہے کہ میری بات پر توجہ نہیں کی جاتی۔حالانکہ جب تک شرعی اور عدالتی طور پر میرے پاس ثبوت مہیا نہ کیا جائے میں سزا دینے کا مجاز نہیں چاہے مجھے یقین ہو کہ فلاں آدمی میرے اور جماعت کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے رہتے ہیں باقی اگر ذرا بھی کوشش کی جائے تو اس قسم کے ثبوت مہیا کرنے مشکل نہیں ہوتے۔منافق کچھ دلیر ہوتا ہے اور وہ ایک ہی بات بعض دفعہ کئی مجالس میں کر دیتا ہے اس لئے گواہ آسانی سے پیدا کئے جاسکتے ہیں مگر لوگ کوشش نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ جس کی ہم شکایت پہنچا ئیں اسے فور اسزا دے دی جائے۔حالانکہ یہ مومنانہ مشورہ نہیں پھر ہماری جماعت کے آدمی باہر بھی ہیں ان سے بھی اطلاعات ملتی رہتی ہیں تھوڑے ہی دن ہوئے احراریوں کے ایک لیڈر نے قادیان کے ایک شخص کے متعلق بتایا کہ اس کے ذریعہ قادیان کی خبریں انہیں ملتی رہتی ہیں۔اس شخص کے متعلق اپنی جماعت کی طرف سے اگر کوئی اطلاع مجھے پہنچتی ہے تو وہ خبر احاد ہوتی ہے جس پر گرفت نہیں کی جاسکتی۔سالہا سال میں نے اس شخص کے متعلق عفو سے کام لیا ہے مگر اب ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کو الگ کیا جائے۔اس لئے میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ منافقوں کو ظاہر کرے " - ARA مخالفت کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوا تھا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ڈاک پر سنسر شپ حکومت نے اپنی سوچی کبھی سکیم