تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 442 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 442

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۴۲۸ کے مطابق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ڈاک پر سنسر شپ بٹھادی۔یہ گویا جماعت احمدیہ کے مقدس امام کی ایک قسم کہ ناکہ بندی تھی جس سے حکومت کا مقصد واضح تھا کہ کسی نہ کسی بہانے سے وہ حضور پر گرفت کرنے پر تلی ہوئی تھی۔حضرت امیرالمومنین کے لفظ لفظ پر حکومت کی نظر ڈاک پر سنسرشپ کے علاوہ حکومت نے حضرت امیر ۲۵۷ المومنین خلیفتہ المسیح الثانی کی تقریریں بھی زبر دست ناقدانہ نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں۔ہم ۱۹۳ء میں جبکہ احرار کی مخالفت زوروں پر تھی گورنمنٹ نے پورا زور لگایا ہے کہ مجھے کسی بات کے متعلق پکڑے۔ہی۔آئی ڈی کے آفیسر ہر وقت پیچھے لگے رہتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا کرنے کی توفیق ہی نہ دی۔سی۔آئی ڈی کا ایک چوٹی کا افسران دنوں مجھے لاہور میں ملا۔اس نے مجھ سے کہا۔حد ہو گئی حکومت کے آفیسرز اور گورنر ہر روز مشورہ کرتے ہیں کہ کسی طرح آپ کو کوئی چھوٹی سی بات بنا کر ہی پکڑ لیں۔مگر اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔میں نے کہا اس میں ہماری اپنی کوئی خوبی یا بہادری نہیں یہ سب کچھ ہمارا خدا کر رہا ہے کوئی بندہ کچھ نہیں کر رہا۔اسی تعلق میں مولانا شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ کا بیان ہے کہ۔سر ایمرسن گورنر (پنجاب) ہر ممکن کوشش میں تھے کہ کسی طرح موقعہ ملے تو حضرت اقدس کو زیر الزام لگانے کا بہانہ تلاش کریں مگر وہ سراسر نا کام رہے۔ان ایام میں چونکہ حضور کا خطبہ جمعہ لمبا ہو جایا کرتا تھا اور اڑھائی بجے کے قریب گاڑی قادیان سے بٹالہ کے لئے روانہ ہوتی تھی اس لئے حضور کا خطبہ نوٹ کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے دو ر پورٹر مقرر تھے ایک رپورٹر گاڑی چلنے سے پہلے کا مضمون نوٹ کر کے گاڑی پر چلا جایا کرتا تھا اور دوسرا خطبے کا بقیہ حصہ نوٹ کیا کرتا تھا۔سرایمرسن حضرت اقدس کی خداداد ذہانت اور فراست دیکھ کر حیران تھے وہ کہا کرتے تھے کہ یہ عجیب انسان ہے۔اپنی قوم کو بیدار کرنے اور ابھارنے کے لئے ایسی زبر دست تقریر کرتا ہے کہ جو سراسر قابل اعتراض ہوتی ہے مگر آخر میں ایک ہی فقرہ ایسا کہہ جاتا ہے کہ جس سے پہلی تقریر ساری کی ساری ناقابل اعتراض ہو کر رہ جاتی ہے اور ہم اس پر کوئی گرفت نہیں کر سکتے"۔یہاں ضمنا سر ایمرسن کی نسبت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے قلم سے ایک واقعہ لکھنا ضروری > ۲۵۸ ہے۔حضور فرماتے ہیں۔"جب سرایمرسن۔۔۔کچھ عرصہ بعد۔۔۔اپنی ٹرم (TERM) پوری کر کے ریٹائر ہونے والے تھے