تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 432
تاریخ احمد بیت جلد ۶ ۴۱۸ احرار کے استحکام کے لئے جد وجہد کریں۔۔۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قادیانیوں کے خلاف روپیہ خرچ کرنا اس وقت کا جہاد ہے "۔احرار نے قادیان میں ڈیرہ جماتے اور دفتر قائم کرتے ہی خلاف امن کار روائیاں شروع کردی تھیں جن کی وجہ سے قادیان ہی نہیں اس کے نواح میں بسنے والوں کے باہمی تعلقات میں بھی زبر دست کشیدگی پیدا ہو گئی جس میں اضافہ کرنے کے لئے انہوں نے ایک طرف حکام کو احمدیوں کے خلاف جھوٹی رپورٹوں سے بھڑ کایا دوسری طرف ہر ایک مسجد میں نہایت اشتعال انگیز اور دلازار تقریروں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا جس میں جماعت احمدیہ کے مقدس پیشوا اور دو سرے بزرگوں پر نہایت نخش اتمام لگائے جاتے۔احمدیوں کو قاتل اور سفاک قرار دیا جاتا اور مختلف پیرایوں اور رنگوں میں لوگوں کو فتنه و فساد کے لئے اکسایا جاتا۔بد زبانی اور بد گوئی کا یہ ناروا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے لاہور، امرتسر لدھیانہ اور دوسرے شہروں کے آتش زیر پا اور شرر بار خطیبوں اور مولویوں کا ایک تانتا لگ گیا۔یہ خدا ناترس دشنام طرازی ، زہر چکانی ، تمسخر، پھکڑ بازی ، جھوٹ اور دوسرے تمام اوچھے ہتھیاروں سے کام لیتے تھے اور یہ سب کچھ پولیس اور دوسرے ذمہ دار حکام کی موجودگی بلکہ سر پرستی میں ہو تا تھا۔یہ لوگ جہاں عوامی جذبات کو مشتعل اور بر انگیختہ کرنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے۔وہاں اپنی امن پسندی اور مظلومیت کی نمائش بھی باقاعدگی سے کرتے تھے اور یہ ڈھنگ قریباً ہر ایک مقرر اختیار کرتا تھا اور اس غرض کے لئے نت نیا انداز اختیار کیا جاتا تھا۔چنانچہ صدر مجلس احرار اسلام ہند مولوی حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی قادیان آئے تو ۲۳ / مارچ ۱۹۳۴ء کو ان کی خدمت میں ذیل کا سپاسنامہ پیش کیا گیا۔" جناب کی خدمت میں سچ عرض کرتے ہیں کہ ہم قادیان میں برطانوی حکومت نہیں سمجھتے بلکہ ہم پر قادیانی جماعت حکمران ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قادیان میں برطانوی حکومت کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور اسی لئے ہم لوگوں پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔قادیان سے کان پکڑ کر نکال دینا ہر روز کا مشغلہ ہے۔جرمانوں اور بیدوں کی سزا دی جاتی ہے۔قتل تک ہضم کر لئے جاتے ہیں۔چنانچہ تھوڑا عرصہ گزارا ہے کہ محمد امین مجاہد بخارا کو دن دہاڑے قتل کیا گیا اور قاتل اقبال جرم کرتا ہے مگر کوئی مقدمہ نہیں چلتا۔باقاعدہ امور عامہ - امور داخلہ - امور خارجہ مقرر کئے جاتے ہیں۔خانہ ساز ہائیکورٹ اور اس کے ماتحت لوئر کورٹ موجود ، اور خصوصیت سے مسلمانوں کے متعلق ان کی پالیسی یہ ہے کہ ان کو قادیان سے نکال دیا جائے اور ان کا مذہبی عقیدہ بھی ہے چنانچہ سمال ٹاؤن قادیان کے موجودہ !