تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 433
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۱۹ پریذیڈنٹ کا عدالت میں بیان ہوا۔اور اس نے علی الاعلان کہا کہ قادیان کے غیر احمدیوں کے لئے صرف دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو محمد الرسول اللہ ﷺ کے دامن اقدس کو چھوڑ کر قادیانی ہو جائیں یا قادیان سے نکل جائیں"۔یہ اکثرو بیشتر الزامات وہ ہیں جو بعد کو پنجاب ہائی کورٹ میں پوری تفصیل سے زیر بحث آئے اور عدالت نے ان کو بالکل بے بنیاد اور غلط قرار دیا۔بہر کیف اس سپاسنامہ کے جواب میں جو اول تا (2) آخر غلط بیانیوں کا مجموعہ تھا مولوی حبیب الرحمن صاحب موصوف نے بڑی تیز و تند تقریر کی جس میں قادیان کے غیر احمدیوں کو سخت اشتعال دلاتے ہوئے کہا۔" تمہارا فرض ہے کہ محمود اور اس کے رفقاء کو پر امن طور پر صراط مستقیم کی طرف بلاؤ اور ان کے سامنے سرکار دو عالم کے بچے دین کو پیش کرو اور اس کے عوض میں تمہارے سر پھوڑے جائیں تو سر پھڑ والو۔اگر تم کو گولی کا نشانہ بنا ئیں تو سینوں کو کھول دو اور بے تابانہ طور پر موت سے بغل گیر ہو جاؤ۔خدا کی قسم میں اس بات کا منتظر ہوں کہ قادیان کی گلیوں میں احرار کے رضا کاروں کے خون کی نہریں بہتی ہوں اور میں سمجھ لوں کہ آج میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ اگر میں اپنے مشن کو پورا کرتے ہوئے محمود کے حواریوں کے ہاتھوں خاص قادیان میں قتل کیا جاؤں تو میں اس کو شہادت کبری تصور کروں گا"۔مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ احراری لیڈروں کی تقریروں میں اشتعال انگیزیوں کے کیا کیا حربے استعمال نہ کئے جاتے ہوں گے۔ان شعلہ افشانیوں کا ایک حصہ الفضل میں اور ایک حصہ سلسلہ احمدیہ کے جماعتی ریکارڈ میں آج تک محفوظ ہے اور انشاء اللہ آئندہ نسلوں کے لئے قیامت تک محفوظ رہے گا۔یہ تو قادیان میں پنجاب کے بعض سرکردہ علما کی طرف سے احرار کی حوصلہ افزائی آنے والوں کا حال تھا جو مخالف علماء دوسرے شہروں میں رہتے تھے اور انہیں قادیان آنے کا موقعہ نہیں مل رہا تھا۔ان کی زبان و قلم میں غضب کی تیزی اور خیالات میں بلا کی شدت آگئی تھی۔اور وہ احرار کی مخالفانہ کوششوں کو جہاد قرار دے رہے تھے اور تمام مسلمانوں کو احمدیت کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کی ترغیب دے رہے تھے۔چنانچہ انہی دنوں مولوی سید انور شاہ صاحب کا شمیری (مشهور فاضل دیوبند) نے ایک اپیل شائع کی جس میں لکھا۔" قادیانیوں کے مقابلہ میں موجودہ جنگ خالصتہ لوجہ اللہ جاری ہے۔لہذا ان حضرات سے جنہوں