تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 430 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 430

تاریخ احمدیت - جلد 1 کے درد ناک نالوں کو سن کر اٹھے اسی طرح ہم نے قادیان کے تباہ حال اور ستائے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کی پکار سن کر کان کھڑے کئے۔قادیان کے مرزائی سرمایہ داروں کو یقین تھا کہ زمین کے درد ناک نالے آسمان کے خداوند تک نہیں پہنچتے لیکن دیکھو ا یوں معلوم ہوا کہ گویا آسمان کے۔۔۔۔۔۔۔خداوند نے کہا کہ اے ارباب غرور یہ تمہاری متشد روانہ زندگی کی انجیل کے اوراق اب بند ہو جانے چاہئیں۔پس اس نے جھوٹے مسیحا اور اس کے حواریوں کے مظالم کو روکنے کے لئے ایک خاک نشینوں کی جماعت کے دل میں تحریک کی " سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری میں بھی قادیان پر " نظر عنایت کرنے کا ایک سبب قادیان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھی بتایا گیا ہے۔الفاظ یہ ہیں۔”مذہب کی آڑ میں یہاں ایک خوفناک نظام قائم ہے۔جس کے تحت "حسن بن صباح " جیسے کارنامے سر انجام دیئے جاتے ہیں ان حالات اور باشندگان قادیان کی فریاد نے احرار کو مظالم قادیان کے انسداد کے لئے مجبور کیا"۔" احرار نے مظالم قادیان" کے ازالہ کے لئے سالانہ جلسہ ۱۹۳۳ء کا موقعہ تجویز کیا اور انہوں نے ان ایام میں جبکہ ملک کے اکناف و اطراف سے ہزاروں احمدی اپنے مقدس مرکز میں جمع تھے محض احمدیوں کی دلازاری کے لئے جلسہ کیا اور اشتعال انگیز اشتہارات تقسیم کئے۔اس موقعہ پر مقامی پولیس نے ایک طرف تو ہنگامہ آرائی کی حوصلہ افزائی کی اور دوسری طرف حکام بالا کو اس قسم کی اطلاع بھیج کر کہ احمدیوں کی طرف سے فساد کا خطرہ ہے پولیس کی ایک خاصی جمعیت منگالی۔اور مجسٹریٹ صاحب علاقہ نے جماعت کے ذمہ دار ارکان کو مشورہ دیا کہ احمدیوں کو جلسہ میں نہ جانا چاہئے۔چنانچہ احراری جلسہ گاہ کی طرف جانے والے ہر راستے پر آدمی مقرر کر دیئے گئے تا اگر کوئی ناواقف احمدی ان کے جلسہ میں جانے کے لئے وہاں پہنچے تو اسے واپس کر دیا جائے اور انتہائی حزم واحتیاط سے کام لیتے ہوئے ہر ممکن کوشش کی کہ احرار کو کسی قسم کی شکایت نہ پیدا ہو لیکن چونکہ ان لوگوں کی غرض محض جماعت احمدیہ کے خلاف شور مچانا تھی جس میں مقامی پولیس خود پشت پناہ بنی ہوئی تھی۔اس لئے جب فساد کے لئے کوئی اور بات نہ سو جبھی تو انہوں نے اپنی جلسہ گاہ کے تھوڑی دور ایک احمدی مکان میں دو ایک مہمان احمدیوں کے اشعار پڑھنے پر شور مچا دیا کہ شعر پرھنے والوں کی آواز ان تک پہنچتی ہے۔مقامی پولیس کے انچارج نے حکم نافذ کر دیا کہ احمدی اشعار پڑھنا بند کر دیں۔کیونکہ اس سے فساد کا خطرہ ہے چنانچہ شعر پڑھنے بند کر دیئے گئے اس پر احراریوں نے ایک احمدی کے مکان کی دیوار پر (اس کے منع کرنے کے باوجود) ایک پوسٹر چسپاں کر دیا وہ پوسٹر اس جلسہ سے متعلق نہیں تھا۔اور اس پر حضرت