تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 429
تاریخ احمد بیت - جلد ۶ ۴۱۵ فتنہ وفساد ہوتا ہے اس لئے آپ مسجد سے چلے جائیں۔لہذا وہ دونوں صاحب چلے گئے اس کے سوا اور کوئی واقعہ نہیں ہوا۔احرار کا قادیان میں نہ کوئی دفتر ہے نہ لنگر خانہ اور نہ کوئی جماعت“۔احرار جھوٹے پراپیگینڈا کے ماہر تھے ہی انہوں نے اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا لیا اور مسلمانوں کو اکسانے کے لئے یہ روایت گھڑی کہ احمدیوں نے اپنے اقتدار کے نشہ میں ان احراری نوجوانوں کو لاٹھیوں سے مار مار کر ادھ موا کر دیا ہے۔چنانچہ چودھری افضل حق صاحب مفکر احرار " تاریخ احرار " میں یہ واقعہ بالکل مسخ شدہ رنگ میں پیش کر کے لکھتے ہیں کہ۔" چند نوجوان والٹیروں کو قادیان میں بھیجا تاکہ مسلمانوں کی مساجد میں جاکر نماز ادا کریں لیکن ایسا نہ کریں کہ کہیں مرزائیوں کی مسجد میں جا گھو۔اور مرزائیوں کو تم پر تشدد کا معقول بہانہ مل جائے لیکن قادیانی مرزائیوں کو مسلمانوں کی مسجد میں آوازہ اذان کی برداشت کہاں تھی مسلمان پر ان کالا کا ہاتھ رواں تھا ہی۔آئے اور لاٹھی کے جوہر دکھانے لگے۔بے دردوں نے لاٹھیوں سے احرار اور والٹیروں کو اس قدر پیا کہ پناه به خدا بزدل دشمن قابو پا کر ایسے ہی غیر شریفانہ مظاہرے کرتا ہے"۔قادیان میں آنے والے احرار کی اس پہلی پارٹی کے بعد ایک شخص عنایت اللہ نامی احرار کے مبلغ کی حیثیت سے یہاں پہنچ گئے جنہوں نے بعض متفی اور آوارہ مزاج لوگوں کو آلہ کار بنا کر احمدیوں کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دیں کہ کسی طرح مقامی احمدیوں سے تصادم ہو جائے اور وہ اپنی چیخ و پکار سے نہ صرف مسلمانوں کی توجہ اور ہمدردی حاصل کر سکیں بلکہ غیر مسلموں سے گہرا تعلق ہو جائے تا احمدیوں کے خلاف جو بھی سرکاری کار روائی ہو وہ ان کی پشت پناہی میں ہو۔انجمن احرار المسلمین " کی طرف سے اخبار ”پیغام حق" کے ذریعہ ۱۹۲۹ء میں قادیان کے غیر احمدیوں اور غیر مسلموں پر احمدیوں کے مفروضہ مظالم کا ڈھنڈورا پیٹا جا چکا تھا۔اب یہ پراپیگنڈا نمک مرچ لگا کر اور بھی تیز کر دیا گیا کہ قادیان میں انگریزی حکومت مفلوج ہو کے رہ گئی ہے اور " مرزائیوں" نے اپنی متوازی حکومت قائم کر کے مقامی ہندوؤں اور مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور یہ کہ احرار اس مظلوم اور ستم رسیدہ آبادی کی پکار پر قادیان گئے ہیں اور ان کو اس جبرو تشدد سے نجات دلا کے رہیں گے۔خود " مفکر احرار " چودھری افضل حق صاحب نے قادیان میں احرار کے داخلہ کی ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے چنانچہ احرار کی اس کارروائی کو آسمانی تحریک قرار دیتے ہوئے تحریر کرتے ہیں۔و جس طرح بیکسی کشمیر کی غریب آبادی کی مصیبتوں کو دیکھ کر آہ و فغاں کر رہی تھی اور ہم اس