تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 428
تاریخ احمدیت جلد دو سرا باب (فصل هشتم) سلام اسلام قادیان میں احرار اور حکومت کی اشتعال انگیز سرگرمیاں سلسلہ احمدیہ کا مقدس نظام چونکہ ایک واجب الاطاعت امام اور ایک فعال مرکز سے وابستہ تھا اور ہے اس لئے احرار اور حکومت دونوں نے جماعت احمدیہ کی تنظیم پارہ پارہ کرنے کے لئے براہ راست قادیان ہی کو اپنی اشتعال انگیزیوں کی آماجگاہ بنالیا اور سر توڑ کوشش شروع کر دی کہ احمدیوں کے خلاف ایسی فضا پیدا کر دی جائے کہ وہ صبرو تحمل کا دامن چھوڑ کر قانون شکنی پر مجبور ہو جا ئیں اور بالآخر ملکی آئین کے ساتھ ایسا کھلا تصادم شروع ہو جائے کہ حکومت کے لئے پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی پر اور پھر آپ کے بعد قادیان اور اس سے باہر پورے صوبہ میں پھیلے ہوئے دوسرے احمدیوں پر ہاتھ ڈالنا آسان ہو جائے۔اس بارے میں انگریزی حکومت کے ناپاک اور مکروہ عزائم کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ ایک عرصہ بعد مرزا معراج الدین صاحب انسپکٹر جنرل ہی۔آئی۔ڈی نے ایک مشہور احمدی کو بتایا کہ گزشتہ سالوں میں حکومت نے جو منصوبے آپ کی جماعت کے خلاف کئے تھے وہ اتنے بھیانک اور اتنے خوفناک تھے کہ ان کا تصور کر کے بھی انسان کا دل لرز جاتا ہے۔مگر جماعت کی زبر دست قیادت نے ان سب کو ناکام بنادیا۔اور اسی لئے میں امام جماعت احمد یہ کاگرویدہ ہو گیا ہوں۔مرکز احمدیت پر حملہ کرنے اور اس سکیم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سب سے پہلا اور اہم قدم یہ اٹھایا گیا کہ احرار نے ابتداء ۶۳/ اکتوبر ۱۹۳۳ء کو دو نوجوان قادیان میں بھیجے تا صورت حال کا جائزہ لیں۔ان نوجوانوں کی آمد پر قادیان کی اہلسنت و الجماعت اور ہندوؤں نے اخبار الفضل میں ایک بیان دیا کہ - اکتوبر ۱۹۳۳ء کو دو نوجوان آئے اور بیان کیا کہ ہم احرار اسلام کی طرف سے بھیجے گئے ہیں چونکہ قادیان کے اہلسنت والجماعت جن کی مسجد میں آکر وہ پھہرتے تھے احرار کی سرگرمیوں کو مسلمانوں کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں اس لئے ہم نے ان کو کہا کہ مسجد عبادت کے لئے ہے چونکہ ایسی کارروائیوں سے