تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 427 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 427

تاریخ احمدیت۔جلد 4 سالم دیں گے مولوی لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے کفر کے فتوے ہماری جماعت کو مٹادیں گے۔سیاستدانوں کے سامنے جب ہماری جماعت کا ذکر آتا تو وہ کہتے۔یہ چھوٹی ہی جماعت ہے اس نے کیا کر لینا ہے۔آپس میں اتحاد رکھنا چاہئے۔اقتصادی لوگوں کے سامنے ابھی ہماری تعلیمیں آئی ہی نہ تھیں۔غرض ہماری جماعت کو چوہے کی طرح سمجھا جاتا تھا مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ جسے چوہا سمجھتے تھے شیر ہے اور جسے ناقابل التفات سمجھتے تھے وہ جماعت لوگوں کو کھانے لگ گئی۔وہ بڑے بڑے باد قار لوگ جو اپنی کرسیوں پر اس خیال میں مست بیٹھے تھے کہ ہم جب چاہیں گے احمدیوں کو مسل کر رکھ دیں گے وہ بھی ہمارے نظام اور جماعت کی ترقی کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ جماعت شیر ہے جو ایک دنیا پر غالب آکر رہے گی۔پس لوگ ہمارے دشمن ہیں مگر ہم کسی کے دشمن نہیں ہم مسلمانوں کے بھی خیر خواہ ہیں اور ہندوؤں کے بھی بلکہ ہندوؤں کے بزرگوں کو سچا تعلیم کر کے مسلمانوں کی نگاہ میں کافر بنتے ہیں۔سکھوں کے بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ حضرت باوا نانک صاحب کو خدا کا ولی اور نہایت نیک انسان سمجھتے ہیں حکومت کے بھی خیر خواہ ہیں۔کیونکہ انار کسٹوں کا مقابلہ کرتے اور قانون کی پابندی ضروری سمجھتے ہیں۔کانگریس کے بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ ہم ملک کی جائز حد تک آزادی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔امراء کے بھی خیر خواہ ہیں۔کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ سٹرا ٹنکیں ہوں اور لوگ انہیں قتل کریں۔غریبوں اور مزدوروں کے بھی خیر خواہ ہیں۔کیونکہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ جو ان پر ظلم ہوتے ہیں ان کا ازالہ کیا جائے اور ان کے حقوق انہیں دلوائے جائیں۔غرض ہم سب کے خیر خواہ ہیں اور ہمارا قصور اگر ہے تو یہ ہے کہ ہم اتنے خیر خواہ نہیں جتنی خیر خواہی ناجائز ہوتی ہے اور اسی بناء پر سب لوگ ہمارے دشمن ہو گئے ہیں۔اور اب ہماری ترقی کو دیکھ کر سب جماعتیں پریشان ہو گئی ہیں اور ہمارے تباہ کرنے کے لئے متفق ہو گئی ہیں یا پھر موجودہ فتنہ کی یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالی ہماری آزمائش کرنا چاہتا ہے ہم جو روزانہ اس کے سامنے فخر سے کہتے ہیں کہ اے اللہ ہم تجھے پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس کے مطابق اب خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم کس حد تک قربانیاں کرتے ہیں اور ہمارے دلوں میں کتنا ایمان ہے "۔