تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 416 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 416

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ دینے پڑ جائیں۔۴۰۲ ظاہر ہے کہ میاں صاحب کے مقابلے میں احرار کو سر سکندر حیات سے کوئی دلبستگی نہ تھی۔مگر مصیبت یہ آئی کہ میاں صاحب نے سر سکندرحیات کے مقابلہ میں مرکزی حکومت میں اپنا اقتدار رکھنے کے لئے ظفر اللہ خاں قادیانی کو بڑھایا اور مسلمانوں کے جذبات کو پامال کر کے سیاسیات میں اپنا الو سیدھا کرنا چاہا۔انہوں نے اس مسئلے کی اہمیت کو نہ سمجھا اور نہ احرار کی قوت کا ابتدا میں پورا اندازہ کیا"۔پھر لکھتے ہیں۔اسی زمانے میں احرار نے میاں سر فضل حسین کو جو بساط سیاست کے کامیاب کھلاڑی تھے جن کی چالیس بے حد گہری اور جن کی تدبیریں بہت موثر ہوتی تھیں۔ناراض کر لیا بلکہ اس کے خلاف ایک محاذ قائم کیا۔سر ظفر اللہ کو میاں سر فضل حسین نے یہاں تک نوازا کہ اس کی سفارش حکومت ہند تک کی۔حکومت ہند گویا اس سفارش کی منتظر ہی تھی۔مرزائیت کا حکومت انگریزی سے جو تعلق ہے اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں ہند کے ایگزیکٹو کونسلر کے عہدہ پر ایک مرزائی ظفر اللہ کا تقرر تو در حقیقت انگریز کے خود کاشتہ پودے کی آبیاری تھی مگر احرار کو صدمہ یہ تھا کہ میاں صاحب جیسے بالغ النظر شخص نے دیکھ کر قادیانی لکھی کیسے نکلی۔ادھر میاں صاحب کی مجبوری یہ تھی کہ سر سکندر حیات خاں کے تیور بے حد بگڑے نظر آتے تھے۔وہ سر سکندرحیات کے گروپ کے مقابلے میں اپنے ونگ کو مضبوط کرنے میں مصروف تھے ایسی مصروفیتوں میں بعض اہم غلطیاں ہو جاتی ہیں یہ فاش غلطی ہو گئی۔اب وہ غلط قدم واپس کیا لیتے ؟ پھر انہوں نے اپنے وقار کا سوال بنالیا۔مرزائیوں کی مخالفت احرار کی تبلیغ کا اہم جزو تھا۔انہوں نے میاں صاحب کو للکارا۔اس طرح احرار نے ہندوستان کے مضبوط ترین مدبر کو اپنا بیری بنالیا۔لیکن اس زمانے میں احرار کا بول بالا تھا کسی مخالف کی کچھ پیش نہ جاتی تھی" - سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے سوانح نگار کا واضح اعتراف مندرجہ بالا تمام بیانات پر مجموعی نظر ڈالنے سے صاف طور پر یہ بر آمد ہوتا ہے کہ سر فضل حسین صاحب کی سیاست مسلمانان ہند کے لئے مفید اور ہند و عزائم کے لئے نقصان دہ تھی۔ان حالات میں مجلس احرار کا ان کی آڑ میں احمدیت کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرنے کا مقصد محض ہندو سیاست کی تقویت ہی کے لئے تھا اور وہ مقصد آئندہ الیکشن میں کامیاب ہو کر ہندو مفاد کے تحفظ کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا تھا چنانچہ سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔