تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 417
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ م " پنجاب کے امراء کا طبقہ احرار کی تیز روی اور قبول عامہ کو اپنے لئے مضر سمجھتا تھا اس کے سامنے آئندہ کے الیکشن تھے ملک کو پہلی بار صوبجاتی خود مختاری حاصل ہو رہی تھی۔مسلمانوں اور نا مسلمانوں کی طاقت میں دو یا تین ووٹوں کا فرق تھا۔احرار بھی اس سے خالی الذہن نہ تھے۔ان کے پیش نظر بھی انتخابات تھے اور سمجھتے تھے کہ طاقت کے بغیر کوئی تنظیم بھی موثر نہیں ہوتی" 712- اسی حقیقت کی تائید مزید سابق جنرل سیکرٹری مجلس احرار اسلام کا حلفیہ بیان جناب سیفی کاشمیری (سابق سیکرٹری مجلس احرار اسلام کے مندرجہ ذیل حلفیہ بیان سے بھی ہوتی ہے یہ بیان " زمیندار ۲۸ اگست ۱۹۳۶ء کے پرچہ میں شائع ہوا تھا۔میں تمام ان مسلمانوں کی خدمت میں جن کے دل میں خدائے قہار و جبار اور اس کے برگزیدہ رسول سرور کائنات حضرت محمد عربی ﷺ کی ذات والا صفات کی محبت کا جذبہ ہے۔اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر جو کچھ مجھ کو احرار کے سرکردہ لیڈروں کی معیت احرار کے دفتر مرکزی میں ایک لمبے عرصہ کی رہائش اور زعمائے احرار کی پرائیویٹ مجالس کی کارروائی سننے کے بعد حاصل ہوا تھا۔خدائے وحدہ لا شریک کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے قطعی اور یقینی طور پر کہتا ہوں کہ مجلس احرار کی مرزائیت یا قادیانیت کے خلاف تمام تر جدوجہد اور قادیان کے خلاف یہ سب پراپیگنڈا محض مسلمانوں سے چندہ وصول کرنے اور کونسل کی ممبری کے لئے ان سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہے۔احرار کے لیڈر اس حقیقت کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مسلمان اپنے جذبہ ایمانی کے باعث اسلام کے نام پر مرمٹنے کے لئے تیار ہے۔پس مسلمانوں میں اپنی ساکھ بٹھانے اور ان سے چندہ وصول کرنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ تبلیغ اسلام اور تردید قادیانیت کو بہانہ بنایا جائے۔اس طریق سے ایک طرف تو ان سے چندہ وصول کیا جائے اور دوسری طرف ان سے وعدہ لیا جائے کہ وہ ہر آئندہ کو نسل کے انتخاب میں ووٹ احرار کے نمائندہ ہی کو دیں گے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ احرار اپنی تبلیغی کا نفرنسیں صرف ان ہی مقامات پر منعقد کرتے ہیں جہاں سے احراری نمائندہ آئندہ انتخاب میں کھڑا ہو رہا ہو۔لیکن جہاں سے ان کا نمائندہ کھڑا نہ ہو رہا ہو وہاں پر یہ تبلیغی کا نفرنس منعقد نہیں کرتے۔ان کا نفرنسوں کے لیکچراروں کی آخری تان یہاں آکر ٹوٹتی ہے کہ کونسل میں اپنا نمائندہ اس کو بناؤ جو احراری ہو۔میرا یہ بیان محض ایک خیال یا نتیجہ نہیں جو واقعات سے اخذ کیا گیا ہو بلکہ میں نے خود احرار کے بڑے بڑے لیڈروں کو بارہا یہ کہتے سنا کہ حصول مقصد کے لئے قادیانیوں کے خلاف پروپیگنڈا ایک ایسا ہتھیار ہمارے ہاتھ میں ہے جس سے ہم تمام مخالفتوں کو دور کر سکتے ہیں اور ہرقسم کی مالی یا انتخابی مشکل اس سے