تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 415 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 415

تاریخ احمدیت۔جلده ۴۰۱ تحریک کشمیر سے فارغ ہو کر احرار کوئی سیاسی اور اقتصادی پروگرام مرتب کرتے اور مسلمان عوام کی بے پناہ قوت کو ساتھ لے کر اس پروگرام کی تکمیل کے لئے آگے بڑھتے لیکن انہوں نے زود رنج اور مشتعل ہو کر میاں فضل حسین سے جنگ شروع کر دی"۔مفکر احرار چوہدری افضل حق اب ہم دو مشہور احراری لیڈروں چوہدری افضل حق صاحب اور مولوی مظہر علی صاحب صاحب اور مولوی مظہر علی اظہر کے حیرت انگیز اقبالی بیانات درج کرتے ہیں صاحب اظہر کے اقبالی بیانات جس سے سید نور احمد صاحب اور عاشق حسین FIF صاحب بٹالوی کے دعوئی کی تائید ہوتی ہے لکھتے ہیں۔کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ میاں سر فضل حسین ہندوؤں کی نظر میں اور نگ زیب کا بروز تھے سر سکندر نے بڑھ کر امید دلائی کہ ہندوؤں کے لئے وہ اکبر ثابت ہوں گے۔اس طرح ہندوؤں کا سہارا پا کر وہ ابھرے۔خاندانی خدمات کے باعث انگریزوں نے ان کا ہاتھ تھاما۔یہ گمنامی کی سطح سے اونچے اٹھے پہلی دفعہ پولیس کمیٹی کے ممبر بنائے گئے۔پھر سائمن کمیشن کی تعاونی کمیٹی کے صدر بنے۔اس صدارت میں راجہ نریندر ناتھ لیڈر ہند و پارٹی کے اثر و رسوخ نے بڑا کام کیا۔پنجاب کے ہندوؤں کو میاں صاحب کے مقابلے میں مہرہ درکار تھا۔سر سکندر بھی انہیں پوری پوری امید اور حوصلہ دیتے) رہے۔ہندو ان سے خوش یہ ہندوؤں سے راضی راضی خوشی دونوں آنے والے دور کے دن گنے لگے۔وہ ایگزیکٹو کو نسلر اسی خوبی کے باعث بنائے گئے کہ بر خلاف میاں صاحب کے ہندو پارٹی کو آپ پر اعتماد تھا سر سکندر کی یہی خوبی ان کی گورنری (کا) باعث ہوئی۔میاں سر فضل حسین اگر چہ انگریزی سیاسیات کی کل کا بہترین پر زہ تھے لیکن انہیں اپنی لیاقت اور کامیاب سیاسی چالوں پر اتنا ناز تھا کہ وہ انگریز افسران کی ناز برداری کے بجائے ان سے خوشامد کی توقع رکھتے تھے۔انگریز اعلیٰ افسران سے ان کا رات دن کار گڑا جھگڑا تھا اور ہر مرحلے پر من مانی منواتے تھے اور خود کسی کی نہ مانتے تھے اس لئے انگریز حکام جہاں ان کی کانگریس کے مقابلے میں کامیاب سیاسی ہتھکنڈوں کے معترف تھے وہاں ان کی محکمانہ دراز دستیوں کے شاکی تھے۔میاں صاحب کئی انگریز اعلیٰ افسروں کو ذلیل کر کے نکال چکے تھے جس کو ذرا سرکش پاتے تھے اس کی سرکوبی پر آمادہ ہو جاتے تھے میاں صاحب کی یہ ادا انگریز کو نہ بھاتی تھی بر خلاف اس کے سر سکندر حیات خاں انگریزوں کے مقابلہ میں ایسی مروت برتتے تھے کہ حاکم ہو کر محکوم نظر آتے تھے۔انگریزی حسیات کے احترام میں وہ ہندوستانی یا اسلامی حقوق کے لئے بلند بانگ نہ تھے۔مطالبات کے بجائے عرضداشتوں کے قائل تھے مبادا انگریز کا مزاج برہم ہو جائے اور لینے کے