تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 391 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 391

تاریخ احمدیت بنده ہے حالانکہ اس کی تعلیم اس کے خلاف ہے ہم نے اس کی روک تھام کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔ہم ہندوؤں میں سے کسی کو قادیانی نہیں ہونے دیں گے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان میں سے بھی کوئی قادیانی نہ ہو"۔وو 100- رساله دین و دنیا کا ایک نوٹ مولوی رسالہ ” دین و دنیا دہلی نے مولوی ظفر علی خاں ظفر علی خان صاحب کی نسبت صاحب کی احمدیت کے خلاف شورش انگیزی کا حقیقی سبب بیان کرتے ہوئے لکھا۔” پنجاب نے بلاشبہ ظفر علی خان سے بڑا فتنہ پرداز اور ابن الوقت! آج تک پیدا نہیں کیا ہے۔گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ظفر علی خاں کا جواب مشکل سے ہندوستان پیش کر سکے گا۔ظفر علی خاں کی ہر تحریک اور ہر تبدیلی کی تہہ میں زر پرستی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔اس زر پرستی پر قوم پرستی کا نقاب ڈال کر ہمیشہ ظفر علی خاں نے مسلمانوں کو بے وقوف بنایا ہے۔پچھلے دنوں جب کانگریس اور مہا سبھائیوں نے مسلمانوں کے خلاف تمام ہندوستان میں فتنہ برپا کر رکھا تھا۔اس وقت پر اسرار طریقہ پر ظفر علی خاں مہاسبھائی جماعت کے سب سے بڑے حامی بن گئے تھے۔ہم دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کی طرح ظفر علی خاں کی اس تبدیلی کو بھی قوم پرستی ہی سمجھتے۔اگر ہم کو ایک لاہور کے مخلص دوست سے یہ معلوم نہ ہو جاتا کہ ظفر علی خاں نے باقاعدہ طور پر مہا سبھائیوں سے سودا کیا ہے لیکن ہم کو یہ معلوم کر کے اور بھی رنج ہوا کہ اس سودے کی کچھ اقساط ظفر علی خاں صاحب کو مہاسبھائیوں سے ابھی تک وصول نہیں ہو ئیں جس کی بناء پر ظفر علی خاں پھر رفتہ رفتہ کانگریس اور مہاسبھا کو چھوڑ کر مسلمانوں میں ملنا چاہتے ہیں۔چنانچہ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے آج کل قادیانیوں کے خلاف آپ شدید زہر افشانی کر رہے ہیں۔قادیانیوں کی مخالفت اس لئے نہیں ہو رہی ہے کہ آپ خدانخواستہ قادیانیت کے خلاف ہیں بلکہ مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے لئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔لیکن شاید ظفر علی خاں کو یہ معلوم نہیں کہ اب آپ کی حقیقت بے نقاب ہو چکی ہے۔دنیا میں کوئی شخص آپ کا یا ایک ایسے شخص کا کیا اعتبار کر سکتا ہے جو بے شرمی کا مجسمہ اور اخلاقی پستی کا پیکر ہو اور جس کے ہاں کی اندرونی زندگی بے انتہاء شرمناک اور اخلاق سوز ہو۔میرے خیال میں اب مسلمان اتنے بے وقوف نہیں رہے ہیں کہ وہ قومی راہ نماؤں میں اور قوم فروشوں میں فرق محسوس نہ کریں۔ہم اس نازک موقعہ پر سادہ مزاج مسلمانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ظفر علی خاں کے اس فریب سے ہوشیار رہیں جس کے پردے میں قادیانی اور غیر قادیانی - سنی - شیعہ کا جھگڑا اٹھا کر مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے کی کوشش کسی جدید سودے کی بناء پر ہو رہی ہے۔کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ ظفر علی خاں ہندو سے جو سرتاپا کافر ہے