تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 390 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 390

تاریخ احمدیت۔جلد ووٹ مل جانے سے نہ ان کی حفاظت ہوتی ہے اور نہ ہندو قوم ٹکرے ہونے سے بچ سکتی ہے۔میں جداگانہ انتخاب کو جو اچھوتوں کو دیا جا رہا ہے ایک ایسا ز ہر سمجھتا ہوں جو ہندو قوم کے جسم میں ٹیکہ کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے اور جو ہندو دھرم کو تباہ کر دے گا۔مگر اچھوتوں کو کوئی نفع ا نہیں پہنچائے گا"۔(۲) آپ اس معاملہ کو سمجھنے کے قابل نہیں خواہ آپ کتنے ہی ہمدرد کیوں نہ ہوں میں اچھوتوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ نمائندگی دینا برداشت کر سکتا ہوں لیکن میں ان کی قانونی علیحدگی برداشت نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ دھرم کی شرن میں ہیں"۔عجیب بات ہے کہ وہی ہندو قوم جسے اچھوتوں کی قانونی علیحدگی بھی گوارا نہ تھی اس نے مسلمانوں میں احمدیوں کے غیر مسلم اور جداگانہ اقلیت قرار دیئے جانے کا سوال اٹھا دیا۔اور یہ ” خدمت "مولوی ظفر علی خان صاحب اور مجلس احرار نے انجام دی۔واقعہ یہ ہوا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فیصلہ فرمایا کہ ۵/ مارچ ۱۹۳۳ء کو غیر مسلموں خصوصاً ہندوؤں کو تبلیغ کی جائے اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچایا جائے۔اس اعلان پر ہندوؤں کی مخالفت تو قرین قیاس تھی مگر یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ ہندوؤں کی حمایت میں مولوی ظفر علی خان صاحب اٹھ کھڑے ہوں گے۔لیکن ہوا یہی۔چنانچہ انہوں نے ہندوؤں سے مخصوص اس یوم التبلیغ کے خلاف ۴/ مارچ ۱۹۳۳ء کو ” قادیان نمبر " شائع کیا جس میں لکھا۔۱۵۲ اگر زمیندار یزیدیت کے خلاف جہاد کر رہا ہے تو زمیندار کے لئے قربانی کرو۔اگر "نور افشاں" یزیدیت کا خاتمہ کر رہا ہے تو " نور افشاں " کی امداد کرو۔اگر " آریہ مسافر" یزیدیت کے خلاف بر سمر جنگ ہے تو اس بارہ میں ” آریہ مسافر" کا ساتھ دو۔قادیانیت کے مقابلہ میں ہندو مسلم اور عیسائی کا سوال فضول ہے۔پہلے روح کو اور روحانیت کو موت سے بچاؤ۔اس کے بعد فیصلہ کر لینا کہ اس کی نشو و نما کے لئے کونسا طریقہ بہتر ہے"۔” جہاں تک قادیانیت کا تعلق ہے مخلوق خدا کو متحد ہو کر جنگ کرنا چاہئے"۔اس کے بعد ۶ / مارچ ۱۹۳۳ء کو لاہور میں مجلس دعوت وارشاد کے زیر انتظام ایک جلسہ ہوا جس میں بالفاظ زمیندار (۸/ مارچ ۱۹۳۳ء) مهاشه ادوائیں نند شانت یو گانند نے مولوی ظفر علی خان صاحب کی حمایت کرتے ہوئے کہا۔" مرزا غلام احمد ایک دہریہ ہے اور اس کی تعلیم دہریت سے پر ہے یہ اپنے آپ کو کرشن او تار بتاتا یہا