تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 392
۳۷۸ تاریخ احمدیت۔جلد ۶ اتحاد کرنے کی تو تعلیم دیتے ہیں اور مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں افتراق پیدا کیا جا رہا ہے۔خدا بهتر جانتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے اور کس مصلحت کی بناء پر مسلمانوں کے گلے پر چھری پھیری جارہی ہے۔خدا مسلمانوں کو ظفر علی خاں اور ان کی فتنہ پردازی سے جلد نجات دلائے"۔اس احتجاج کے باوجود مولوی ظفر علی خاں صاحب نے اپنی روش بدلنے کی بجائے انگریزی حکومت سے یہ مطالبہ پیش کر دیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔6 اسی زمانہ میں اہلحدیث لیگ بنارس نے مسلمانوں کے مفاد سیاسی کے خلاف حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر فرقہ وارانہ انتخاب کو برقرار رکھنا ضروری ہو تو اہلحدیث کے لئے نشستیں مخصوص کردی جائیں اس مطالبہ پر پیسہ اخبار " لاہور (۲۸/ جون ۱۹۳۴ء صفحہ ۸-۹) نے لکھا کہ۔یہ کیسی مذموم ذہنیت اور کیسا برا خیال ہے کہ ہر شخص ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ مسجد بنانے کی ٹھان لے۔اگر ہر گدی ہر سجادہ اور ہر پیر خانہ کی طرف سے ایسا ہی نا معقول مطالبہ شروع ہو جائے تو پھر ملک میں ہر بونگ بچ جائے گا اور ایسی مشکل پیدا ہو جائے گی کہ پیروں اور مذہبی فرقوں کے لئے شاید موجودہ تعداد سے بہت زیادہ نشستیں بنانی پڑیں کیونکہ شیعہ سنی وہابی، چکڑالوی ، مرزائی ، رحمان ، شاہی جلالی، جمالی، قادری، نقشبندی ، چشتی سہروردی، نتھے شاہی ، نانک شاہی وغیرہ وغیرہ اتنے فرقے نکل آئیں گے کہ کونسلوں کی نشستیں ان کے لئے ہرگز متفی نہیں ہو سکتیں۔مسلمانوں کے ہر حلقہ انتخاب کی طرف سے بہترین تعلیم یافتہ لائق سے لائق اور قومی ضروریات سے واقف اشخاص کو اپنے نمائندے بتانا چاہئے۔یہ احمق شاہی جلال شاہی سنی وہابی مرزائی ، چکڑالوی کی تمیز درمیان سے اٹھا دینی چاہئے ورنہ۔۔۔مسلمانوں کے کاز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے"۔ظاہر ہے کہ مسلمانان ہند کاملی مفاد اسی میں تھا کہ وہ ہندوؤں اور دوسری قوموں کے مقابل اپنے سیاسی حقوق کی خاطر متحد رہیں اپنے لئے علیحدہ نشستوں کے مخصوص کئے جانے کا مطالبہ نہ کریں۔مگر افسوس جہاں دوسرے مسلمان اخباروں نے مسلمانوں کو متحد العمل رہنے کی تلقین کی وہاں مولوی ظفر علی خاں صاحب اور مجلس احرار نے یہ مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ "مرزائی " مسلمانوں سے الگ جداگانہ اقلیت ہیں انہیں سیاسی حقوق کے لحاظ سے مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کے حقوق غصب کر کے ان کی سیاست پر چھائے جارہے ہیں اور ان کا وجود مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اگر بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو اس مطالبہ کے پیچھے خاص طور پر یہ مقصد کام کر رہا تھا کہ وہ مسلمان قوم جو ہندوؤں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہی تھی اور اسی لئے کانگریس کی "قومیت متحدہ" سے بھی