تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 382 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 382

تاریخ احمدیت جلد ۶ تک کس قدر وکلاء جموں و کشمیر روانہ کئے ہیں؟ میں ابھی تک اپنے حلقہ اثر کے دو ہزار آدمی جیلوں میں روانہ کر چکا ہوں۔مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اس طرح مظلوموں کی ظلم سے رہائی نہیں ہو سکتی۔اگر آپ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو مجلس اجرار مردہ ہو جائے گی۔ایسے نازک وقت میں جبکہ مسلمانان ریاست موت کے منہ میں ہیں اور ظلم و ستم روز بروز ان پر بڑھ رہا ہے جناب صدر آل انڈیا مسلم کشمیر کمیٹی نے اپنے مظلوم بھائیوں کو ہر طرح سے امداد بہم پہنچائی ہے مگر آپ لوگ ہمیشہ ان کے خلاف مضمون تحریر کر کے فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں براہ مہربانی آپ ایسے مضامین شائع نہ کیا کریں۔ایک مضمون احرار " مورخه ۲۵/ جنوری ۱۹۳۲ء کا میری نظر سے گزرا جس کو پڑھ کر مجھے سخت رنج و افسوس ہوا۔اس میں ملک محمد صادق صاحب سیکرٹری مجلس احرار ہند نے یہ فرمان جاری کیا ہے کہ مسلمان کانگریس کی مخالفت نہ کریں۔مگر میں سوال کرتا ہوں کیا آپ لوگ بھی کانگریس کے حامی ہیں اور اس طرح مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔خدا را آپ غور کریں۔ہاں اگر آپ کا نگریس کے تنخواہ دار ہیں تو مجلس احرار سے علیحدہ ہو کر ان کی امداد کریں۔مسلمانوں نے تو بدل و جان یہ اقرار کر لیا ہے کہ جب تک کانگریس قائم رہے گی۔اس کے بر خلاف میدان عمل میں کھڑے رہیں گے۔کیونکہ کانگریس کے ظلم و ستم کے نشان ابھی ہمارے دل سے محو نہیں ہوئے اور نہ ہی ہوں گے۔خدا کے فضل وکرم سے ہم اپنے حقوق جداگانہ حاصل کریں گے۔آخر میں میں یہ بھی کہہ دوں۔بہت سی شکایتیں سننے میں آرہی ہیں کہ مجلس احرار کا حساب ٹھیے نہیں۔آپ لوگ براہ مہربانی کوئی کام سر انجام دینے کی کوشش کریں۔(خاکسار محمد فضل شاہ سجادہ نشین جلال پور جٹاں"۔اسی طرح اخبار " رہنما " ( راولپنڈی) نے ۲۱ / جنوری ۱۹۳۲ء کی اشاعت میں احرار کے اینٹی ڈے قادیان" پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔" ہم موضوع بالا پر نہایت مفید حقائق اور تجاویز پیش کرنے والے تھے مگر احرار کے اینٹی قادیان ڈے نے ہمیں دوسری طرف متوجہ کر دیا ہے اور حالات حاضرہ کے پیش نظر اور نفس مضمون کی علت نمائی کے خیال سے احرار کی اس فتنہ انگیزی سے مسلمان کو علیحدہ رکھنا ہمارے فرض کو اور بھی اہم بنا دیتا ہے جس وقت ہم نے ڈاکٹر عزیز احمد صدر مجلس احرار لاہور کے اس مضمون کو پڑھا تھا اسی وقت سے ہم نے احرار کی حمایت ترک کر دی ہے۔ہم احرار کی اس لئے حمایت کرتے تھے کہ یہ جماعت اسلامی خدمات بجالا رہی ہے مگر اب یہ جماعت کلمہ گوؤں کو مٹانے والی ہے۔ہمیں یقین ہو تا جا رہا ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی دن اپنے ہاتھوں ہی تباہ ہو کر رہیں گے کیونکہ ہر ایک تحریک جو خاص مفاد اسلامی کے پیش نظر شروع کی جاتی ہے ایک عارضی اور ہنگامی فائدہ کے بعد ١١٣٣٥