تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 335 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 335

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۲۱ العلماء مولوی ذکاء اللہ خاں اپنی کتاب " تاریخ عروج عمد سلطنت انگلشیہ ہند " میں لکھتے ہیں۔اول حکم بادشاہ کا جو صادر ہوا۔وہ یہ تھا کہ گائے ذبح نہیں کی جائے گی۔19 جولائی کو ڈھنڈورا پٹوایا کہ جو گائے ذبح کرے گاوہ توپ کے منہ اڑایا جائے گا۔بقرہ عید کو گائے کی قربانی منع کی گئی۔اگر بادشاہ کو اختیار ہو تا تو وہ کیوں ہندو راجہ کے سے احکام دیتا۔مگر تلنگوں کے ہاتھ سے وہ مجبور تھا جو اس نے اپنی مرضی اور مذہب کے خلاف یہ حکم دیئے گائے قصاب چار مہینے تک اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے رہے۔اگر باہر نکلتے تھے تو تلنگے ان کو اسی طرح ذبح کرتے جیسے وہ گائے کو ذبح کرتے تھے۔پانچ چار مسلمان قصائی ہند و قصائیوں کے ہاتھ سے ذبح ہوئے پھر تلنگوں نے دوسرا حکم بادشاہ سے یہ صادر کرایا کہ شہر کے ڈلاؤ اور کوڑا جو بیلوں پر لا کر شہر سے باہر کھیتوں میں ڈالنے کے لئے جاتا ہے وہ گدھوں پر لد کر جایا کرے بھنگیوں کے ہاتھ جب تک گدھے لگے شہر میں ڈلاؤ کے ڈھیر لگے مگر بہت دن نہیں لگے کہ حلال خوروں نے اپنے بیل بیچ کر گدھے مول لئے پھر کبھی ایام غدر میں بیلوں کی پیٹھ پر ڈلاؤ لدا ہوا دیکھنے میں نہیں آیا۔مسلمانوں کو یہ بادشاہی احکام ناگوار گزرے اور انہوں نے کہا کہ یہ اسلام کا بادشاہی نہیں یہ تو ہندوؤں کا راج ہے۔۔۔مسلمانوں نے ایک دفعہ اپنا محمدی جھنڈا ہندوؤں پر جہاد کے لئے لگایا۔دوسری دفعہ مولوی محمد سعید نے جامع مسجد میں یہ جھنڈا کھڑا کیا۔تو بادشاہ نے ان سے کہا کہ یہ کس کے لئے ہے انگریز تو شہر میں باقی نہیں تو انہوں نے کہا ہندوؤں کے لئے لگایا ہے۔بادشاہ نے ان کو یہ سمجھا کر اس جھنڈے کو اکھڑوایا کہ سارے تلنگے ہندو ہیں ان سے بیچارے مسلمان کیا لڑیں گے " " زمانہ غدر میں ان ہندو ہندو تلنگوں کی یورش کا بادشاہ اور شاہی ملازموں پر اثر تلنگوں کی وجہ سے بادشاہ اور دوسرے شاہی ملازمین پر کیا بیتی؟ اس کا آنکھوں دیکھا حال ظہیر دہلوی نے اپنی کتاب داستان غدر" میں یہ لکھا ہے۔”شاہی ملازموں کا یہ حال تھا کہ جب سے یہ بد معاش شہر میں داخل ہوئے تھے بیچارے روٹیوں کو محتاج تھے۔تنخواہیں بند تھیں۔تنخواہ کہاں سے منتی۔خود بادشاہ کی تنخواہ بند ہو گئی تھی۔لاکھ روپیہ مہینا بادشاہ کے یہاں انگریزی خزانہ سے آتا تھا۔جب انگریز ہی نہ رہے اور خزانہ بھی لٹ گیا تو بادشاہ کو تنخواہ کون دیتا اور بادشاہ کے پاس کیا دھرا تھا کہ وہ نوکروں کو تنخواہ دیتے۔۱۴ کاغذات پارلیمنٹ ۱۸۵۷ء بہادر شاہ ظفر کا حلفیہ بیان اور ظہیر ہندوؤں کی حزم واحتیاط دہلوی کی چشم دید روایت ان سب سے یہ بات قطعی طور پر پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ غدر ۱۸۵۷ء کے محرک یقیناً ہندو تھے اور ان کا مقصد مسلمان بادشاہ کو ۱۵