تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 334
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۲۰ طرح بدون میری مرضی یا خلاف حکم صرف میرے ملازموں ہی کو نہیں لوٹا بلکہ کئی محلوں کو لوٹ لیا۔چوری کرنا قید کرنا اور ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور جو جی چاہتا تھا کر گزرتے تھے۔جبرا معزز اہل شہر سے اور تجار سے جتنی رقم چاہتے وصول کرتے تھے اور یہ مطالبات ذاتی اغراض کے لئے کرتے تھے۔جو کچھ گزرا ہے وہ سب مفسدہ پرداز فوج کا کیا دھرا ہے۔میں ان کے قابو میں تھا اور کیا کر سکتا تھا۔وہ اچانک آپڑے اور مجھے قیدی بنا لیا۔میں لاچار تھا اور دہشت زدہ- جو انہوں نے کہا میں نے کیا۔ورنہ انہوں نے مجھے کبھی کا قتل کر ڈالا ہوتا میں ان فوجوں پر کیا اعتبار کرتا جنہوں نے اپنے ذاتی آقاؤں کو قتل کر دیا۔جس طرح انہوں نے ان کو قتل کیا مجھے بھی قید کر لیا۔مجھ پر جور کئے۔مجھے حکم میں رکھا اور میرے نام سے فائدہ اٹھایا تاکہ میرے نام کی وجہ سے ان کے افعال مقبول ہوں۔یہ دیکھ کر کہ ان فوجوں نے اپنے ذی وجاہت و صاحب فرمان افسروں کو مار ڈالا۔میں بے فوج بے خزانہ بے سامان جنگ ہے توپ خانہ کیونکر انہیں روک سکتا تھا۔یا ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر سکتا تھا لیکن میں نے کبھی کسی طرح کی انہیں مدد نہیں دی۔جب باغی افواج قلعہ کے پاس آئیں۔میری طاقت میں تھا۔میں نے دروازے بند کرادیئے میں نے قلعہ دار کو طلب کیا اور جو کچھ گزر امن و عن بیان کر دیا۔اور انہیں باغیوں میں جانے سے باز رکھا۔میں نے لیڈیوں کے لئے دو پالکیاں اور دو تو ہیں قلعہ کے پھاٹک کی حفاظت کے لئے قلعہ دار اور ایجنٹ لفٹنٹ گورنر کی درخواستوں پر روانہ کر دی تھیں۔مزید بر آن اسی شب کو تیز سانڈنی سوار کو جو کچھ ہنگامہ یہاں برپا ہوا تھا اس کا اطلاعی خط دے کر ہر آئر لفٹنٹ گورنر آگرہ کی خدمت میں روانہ کر دیا تھا۔مجھ سے جو کچھ ہو سکا کیا۔میں نے اپنی خود مختار مرضی سے کوئی حکم نہیں دیا۔میں سپاہ کے اختیار میں تھا اور انہوں نے جبر او قہرا جیسا چاہا کرایا۔۔۔مذکورہ بالا جواب میرا خود تحریر کیا ہوا ہے اور بلا مبالغہ ہے۔حق سے اصلا انحراف نہیں کیا ہے۔خدا میرا عالم و شاہد ہے کہ جو کچھ بالکل صحیح تھا جو کچھ مجھے یاد تھا وہ میں نے لکھا ہے۔شروع میں میں نے حلفیہ کہا تھا کہ میں بغیر بناوٹ اور بغیر ملاوٹ کے وہی لکھوں گا۔جو حق اور راست ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی میں نے کیا ہے"۔اس بیان کا ایک ایک لفظ بتا رہا ہے کہ مظلوم بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ان ہندو راج کے احکام واقعات سے ہر گز کوئی تعلق نہیں تھا۔اور باغی ہندو سپاہی محض ان کی چھاپ سے فائدہ اٹھا کر اپنا مطلب نکال رہے تھے پھر باغی سپاہ نے مغلیہ بادشاہ کو یوں بے بس اور مقید کر دینے کے بعد جو احکام جاری کئے وہ خود اس امر کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہیں کہ اس پوری تحریک کے اصل کرتا دھرتا ہندو تھے۔اور اس وقت ریلی پر ہندو کی حکومت ہو چکی تھی۔چنانچہ خاں بہادر شمس