تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 336 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 336

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۲۲ مفلوج کر کے اور ان کے نام سے احکام جاری کرا کے عام مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملانا اور انگریزوں کو ملک بدر کر کے خود قابض ہو جانا تھا ہندوؤں کی داد دینا پڑتی ہے کہ انہوں نے اتنی باریک بینی ، حزم و احتیاط اور زیر کی سے یہ سارا کام انجام دیا کہ اس وقت چھپے رہے اور پھر اصل واقعات پر ایسے دبیز پردے ڈال دیے کہ مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں کا قلم اصل حقائق و واقعات میں ان کا نام لیتے ہوئے بھی لرزنے لگا حتی کہ شمس العلماء خواجہ حسن نظامی دہلوی جیسے مفکر بھی جنہوں نے حالات غدر پر نہایت محنت و عرقریزی سے ایک بیش قیمت مواد جمع کر کے اصل حالات آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کر دیئے۔اسباب غدر پر مورخانہ حیثیت سے نہایت محتاط رنگ میں یہ تبصرہ کرنے پر مجبور ہیں کہ۔میں مجمل طور پر یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ غدر میں دہلی شہر کے اندر انقلاب حکومت کی جو بساط بچھائی گئی تھی اور جس قدر مہرے اس میں حرکت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔اس عظیم الشان فساد کی بنیاد رکھنے والے کچھ اور ہی لوگ تھے جو ٹی کی آڑ میں شکار کھیلتے رہے اور آخر وقت تک سامنے نہ آے"- تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواجہ حسن نظامی نے ساتھ ہی سرکاری وکیل کے اس الزام کے جواب میں کہ یہ مندر مسلمانوں کی سازش کا نتیجہ تھا۔یہ لکھ کر حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا اور جیسے جیسے الزام مسلمانوں اور اسلام پر لگائے اور جیسا سخت لہجہ اختیار کیا وہ۔۔۔۔صداقت کے اعتبار سے بالکل کمزور اور بودا معلوم ہوتا ہے۔البتہ موجودہ نسل کے لئے یہ لکھنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سازش اور بغاوت کا حامی نہیں ہے غدر۱۸۵۷ء میں جس قسم کے ناجائز واقعات پیش آئے۔اسلام نے کہیں بھی ان کی اجازت نہیں دی تیرہ سو برس سے آج تک تاریخ ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کرتی کہ اسلام کی اجازت سے اس قسم کی کوئی حرکت کی گئی ہو جیسی غد ر ۱۸۵۷ء میں پیش آئی۔البتہ مسلمانوں کے ذاتی افعال کا اسلام ذمہ دار نہیں ہے "۔سرسید احمد خاں بانی علی گڑھ تحریک کی مفصل رائے کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ مسلمان بادشاہ کا جو اولوالامر کی حیثیت رکھتا تھا اس سازش کے ساتھ کوئی تعلق نہیں مگر چونکہ مسلمان علماء نے ۱۸۵۷ء میں جہاد کا فتوی دیا لنڈا مسلمان اجتماعی اور قومی حیثیت سے ہنگامہ غدر کے ذمہ دار ہیں۔مگر ایسا خیال کرنا محض تحکم اور زبردستی ہے اور سرسید احمد خاں نے اپنی کتاب ”اسباب بغاوت ہند میں نہایت تفصیل سے اس خیال کی پر زور تردید کی ہے اور لکھا ہے کہ۔