تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 265 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 265

تاریخ احمدیت جلسه ۶ ۲۵۱ اس علاقے کے مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔لوگ اس کی باتیں نہ سنیں اور اس سے بچیں اس مخالفت کا اثر یہ ہوا کہ جہاں عام لوگ احمدی لٹریچر پڑھنے سے گریز کرنے لگے وہاں افریقن احمدی جماعت کے مخصوص مسائل پر خدا کے فضل سے اور پختہ ہو گئے اور برملا کہنے لگے کہ "اگر et احمدیت کفر ہے تو جاؤ ہم کا فرہی سہی " - E ۱۹۳۷ء کے شروع میں مخالفت کی لہر نیروبی سے گزرتی ہوئی ٹبورا ( ٹانگانیکا) میں مقدمات ٹورا میں بھی پہنچ گئی اور احمد صالح (افریقن مجسٹریہ ) پولیس کے افسر، ڈسٹرکٹ آفیسر اور مقامی پنجابی سب کے سب شیخ مبارک احمد صاحب کی تبلیغی سرگرمیوں کو روکنے میں متحد ہو گئے اور بالآخر احمد صالح نے سازش کر کے ان کے اور قاری محمد یسین صاحب کے خلاف دو جھوٹے مقدمات کھڑے کر دیئے۔ایک مقدمہ (TRESS PASS) اور دو سراند ہی جذبات کے مجروح کرنے کا۔ان مقدمات کی سماعت کھلی عدالت میں ہوئی۔مرزا بدرالدین صاحب بیرسٹر اور مسٹر نینے ایڈووکیٹ نے وکالت کی غیر احمدی مولویوں نے بڑے بڑے جسے پہن کر اور قرآن مجید ہاتھ میں لے کر عدالت میں جھوٹی گواہیاں دیں۔پادری بھی دیکھنے آئے کہ احمدی مبلغ مجرموں کے کٹہرہ میں بیٹھا ہے۔تقریباً گیارہ دن دونوں مقدمات کی سماعت ہوئی اور آخر عدالت نے ایک مقدمہ میں ۱۰۰ شلنگ شیخ مبارک احمد صاحب کو جرمانہ کیا اور محمد یاسین صاحب بری کر دیئے گئے اور دو سرے مقدمہ میں محترم شیخ صاحب کو تا بر خاست عدالت قید ایک سال کے لئے حفظ امن کی دو ضمانتیں اور ۲۰۰ شلنگ جرمانہ - EA اور محمد یاسین صاحب کو سوشلنگ جرمانہ کیا گیا۔اس فیصلہ پر مخالفین احمدیت کی چڑھ بنی اور انہوں نے مشہور کر دیا کہ احمدی مبلغ نکلوا دیا گیا ہے۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کا بیان ہے کہ شہر کا افریقن مجسٹریٹ احمد صالح اشد مخالف تھا اور مقدمات وغیرہ بھی اس نے شروع کرائے تھے۔جس احمدی افریقن کے خلاف مقدمہ اس کے پاس جاتا تو خواہ وہ معاملہ کتناہی معمولی کیوں نہ ہو تا وہ اپنے پورے اختیارات کو کام میں لے آتا۔ہمارے دو افر متقن بھائیوں کا اپنی بیویوں سے کسی بات پر اختلاف تھا ان میں سے ایک کو اس نے اپنی عدالت میں پوایا۔اور پھر توہین عدالت کے الزام میں اسے ۵۰ شلنگ جرمانہ بھی کر دیا۔میں نے اس شخص کا معاملہ ڈسٹرکٹ آفیسر کے سامنے رکھا اور اسے پوری طرح سمجھایا مگر وہ افریقن مجسٹریٹ کا طریق کار درست ہی قرار دیتا رہا۔حالانکہ اس بات کی شہادت بھی اس کے سامنے رکھی گئی تھی وہ احمدی محض " قادیانی" کہہ کر پیا گیا۔اور پھر ہتھکڑی لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ شخص مجسٹریٹ کی توہین کے در پے تھا۔ساتھ ہی جب احمدی معلم مسعودی کے بھائی نے کہا کہ کیوں بے گناہ پر ظلم کرتے ہو تو اسے