تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 264
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۲۵۰ توجہ دینا شروع کر دی۔سرکاری سکولوں میں مذہبی تعلیم کے لئے ہفتہ میں دو دن وقت رکھا جاتا تھا۔عیسائی مشنری اس سے فائدہ اٹھاتے تھے مگر مسلمانوں نے اس سے اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تھا۔مکرم شیخ صاحب نے افریقن سکول ٹبورا میں باقاعدگی سے لڑکوں کو دینی تعلیم دینا شروع کی۔گورنمنٹ سکول نبورا کے بعض طالب علم جو آپ کے زمانہ میں پڑھتے تھے۔آزادی کے بعد اکثر حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے۔سکولوں کے علاوہ ٹبورا جیل میں بھی انہوں نے پیغام حق پہنچانا شروع کیا جس سے بہت عمدہ نتائج بر آمد ہوئے اور یہ طریق سلسلہ کی شہرت کا باعث بھی ہوا۔چنانچہ حکومت کی سالانہ رپورٹ ۱۹۳۷ء میں شائع ہوا کہ۔دوران سال میں ایک نیا مسلم استاد بورا میں آیا ہے جس نے خوابیدہ اور پرانے خیال کے باشندوں میں اپنی قوت کے ساتھ ہلچل پیدا کر دی ہے وہ پر امن طریق سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔(ترجمہ) تبلیغ اسلام و احمدیت کے لئے آپ نے اور بھی کئی طریق اختیار کئے۔مثلاً انفرادی ملاقاتیں ، جلسے، مقامی اخبارات I میں مضامین کی اشاعت، تقسیم کتب، تبلیغ بذریعہ خطوط بلند پایہ شخصیتوں کی ، دعوتیں ، مناظرات جلسہ ہائے سیرت النبی ، ریڈیو سے تقاریر ، تبلیغی مجالس کا قیام یوم التبلیغ غیر مسلموں کی نہ ہی کانفرنسوں میں شمولیت وغیرہ وغیرہ۔نیروبی میں مخالفت کا نیا دور ۱۹۳۷-۳۸ء میں یہاں مخالفت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔مشرقی افریقہ کا ساحل چونکہ ہندوستان کے ساحل سے نزدیک ہے۔اس لئے ہندوستان میں جب کوئی تحریک اٹھتی ہے اس کی بازگشت فورا مشرقی افریقہ میں بھی سنائی دیتی ہے چنانچہ ۱۹۳۴ء کی احراری شورش کی طرح یہاں بھی شورش پیدا ہو گئی۔پھر ۷ ۱۹۳ ء 2 میں مصری صاحب نے سر اٹھایا تو ان کا لٹریچر خاص طور پر افریقہ کے غیر احمدیوں نے منگوایا اور پھیلا دیا۔جو ٹریک ہندوستان میں ضبط ہوتے اس جگہ ان کی اشاعت کی جاتی۔نیروبی کی انجمن حمایت اسلام نے اس سال کئی ہزار شلنگ خرچ کر کے اپنا پریس قائم کیا اور ایک اخبار "مسلم" کے نام سے جاری کر دیا اور اس میں احمدیت کے خلاف گند اچھالنے لگے اسی طرح یوگنڈا کی مسلم ایسوسی ایشن نے افریقن باشندوں میں زہریلا پروپیگنڈا کیا اور پرنس بدرو کی طرف سے (جو بگنڈا کے عیسائی بادشاہ کے چچا اور افریقن مسلمانوں کے لیڈر تھے اشتہار دیا کہ شیخ مبارک احمد