تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 266 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 266

۲۵۲ تاریخ احمد بیت - جلد ۷ بھی ساتھ ہی ہتھکڑی لگادی گئی اور اس سے کہا گیا کہ اچھا تم بھی اس کی مدد کرتے ہو۔غرض کہ افریقن مجسٹریٹ نے خاص طور پر مخالفت میں حصہ لیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ احمدیوں کی نعشیں قبرستانوں میں دفن کئے جانے سے انکار کیا جانے لگا۔راہ چلتے احمدیوں کو گالیاں دی جاتیں۔ٹبورا میں یہ جوش و خروش مقدمات کے بعد کافی دیر تک قائم رہا۔البتہ ٹبورا سے باہر ارد گرد کے علاقہ میں اس کا کوئی زیادہ اثر نہ تھا بلکہ مخالفین کی غلط بیانیوں اور ستم رانیوں پر خود ٹبورا کے بعض حلقوں میں نفرت کا اظہار کیا گیا اور فیصلہ مقدمہ کے معابعد میں سے زائد افراد احمدیت میں داخل ہوئے۔بالاآخر سید نا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت پر اس فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں نظر عافی کی درخواست دی گئی۔مسٹر ہرے سیرین بیرسٹر نے پیروی کی۔۱۳۰ ستمبر ۱۹۳۷ء کو چیف جسٹس (K۔C۔KNIGHT BRUCE) نے فیصلہ سنایا کہ دونوں مقدمات میں عدالت ماتحت اور پولیس کی کارروائی سراسر غیر مناسب اور روح آئین کے خلاف ہے۔فاضل جج نے TRESS PASS کے مقدمہ میں مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کو بالکل بری کر دیا اور دوسرے مقدمہ میں ضمانتیں خلاف قانون قرار دیں اور ۲۰۰ کی بجائے جرمانہ ۵۰ شلنگ کر دیا۔ہائیکورٹ کا فیصلہ ٹبورامین پہنچا تو نہ معلوم افریقن میں کیسے مشہور ہو گیا کہ احمدی مبلغ اپیلوں میں جیت گیا اور مجسٹریوں اور پولیس کو فیصلہ میں برابھلا کہا گیا۔اس فیصلہ کی وجہ سے احمدیت کا ایک رعب لوگوں میں بیٹھ گیا اور ان کے جوش و خروش میں بھی کمی آگئی۔۵۴ احمدیہ مسجد ٹبورا مشرقی افریقہ میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں ایک اہم ضرورت یہ تھی کہ ملک کے طول و عرض میں مساجد تعمیر کی جائیں۔مگر جوں کی بلند و بالا عمارتیں دیکھ کر افریقنوں کو یہ احساس ہو رہا تھا کہ شاید گرجے ہی ان کی ترقی کی بنیاد ثابت ہوں گے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی دور رس نگاہ نے اس اہم ضرورت کو محسوس کیا اور شیخ مبارک احمد صاحب کو ہدایت فرمائی کہ مساجد کی تعمیر کی طرف خاص توجہ دی جائے۔اس ملک میں جماعت احمدیہ کے لئے یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل نے یہ آسان کر دیا اور ہر طرح کی مشکلات کے باد جود جماعت متعدد مساجد تعمیر کرنے میں کامیاب ہو گئی۔اس سلسلہ میں شیخ صاحب کے زمانہ میں پہلی مسجد ٹبور میں تعمیر ہوئی۔جماعت احمد یہ ٹبورا کے ہندوستانی افراد نے ۱۹۳۵ء میں فری ہولڈ شہر کے وسط میں مسجد کے لئے ایک فطعہ خریدا۔جنوری ۱۹۴۱ء میں ٹاؤن شپ اتھارٹی سے تعمیر مسجد کی آخری منظوری مل گئی یکم فروری ۱۹۴۱ء کو ابتدائی انتظامات شروع کر دیئے گئے اور احمدیوں نے پہلے بنیا د میں کھو دیں پھر !