تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 263 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 263

تاریخ احمدیت - جلد ۶ MAPENZI YA) کے نام سے ایک ماہوار سواحیلی رسالہ جاری کیا۔C رسالہ کا پہلا نمبر ایک ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔دوسرے نمبر سے اس کی اشاعت دو ہزار کر دی گئی اور پہلے نمبر کو بھی دوبارہ دو ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔چند ہی نمبر شائع ہوئے تھے کہ عیسائیوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا۔اور (رسالہ رفیقی پیٹو (RAFIKI YETU) کے ایک یورپین ایڈیٹر نے شیخ مبارک احمد صاحب کو ایک چٹھی میں لکھا کہ تم نے اپنے آپ کو سخت جنگ میں ڈال دیا ہے اور تم ناکام رہو گے۔۵۲۰ ای رسالہ نے اگست ۱۹۳۷ء کے پرچہ میں اعلان کیا کہ جو کوئی یہ رسالہ پڑھے گا وہ گناہگار ہو جائے گا ہر کیتھولک کو چاہئے کہ اس قسم کا رسالہ جب بھی اس کے ہاتھ میں آجائے۔تو آگ میں اسے ڈال دے۔مگر چرچ کی مخالفت کے باوجود یہ رسالہ آج تک کامیابی سے جاری ہے اور اس نے ملک میں زبر دست حرکت پیدا کر دی ہے۔احمدیہ مسلم سکول ٹبورا افریقین میں تبلیغ کے لئے تعلیم کا انتظام از بس ضروری تھا۔اس ضرورت کے پیش نظر شیخ مبارک احمد صاحب نے ثبورا میں احمد یہ مسلم سکول کی بنیاد رکبھی اس سکول کے قیام کی راہ میں بہت مشکلات پیدا کی گئیں۔اور حکومت کے افسروں میں سے خصوصاً مسٹر بیگشا(MR BAGSHAW) نے جو ان دنوں پراونشل کمشنر اور نہ ہیا کیتھولک تھے اس کی سخت مخالفت کی مگر کئی ماہ کی مسلسل کوشش کے بعد محکمہ تعلیم کی طرف سے منظوری ہل گئی اور 11 جنوری ۱۹۳۷ء کو اس پہلے احمد یہ سکون کا افتتاح کیا گیا۔بورا سکول کے افتتاح سے نہ صرف عیسائیوں کو یہ احساس پیدا ہو گیا کہ ہمارے مقابلہ کے لئے مستقل طور پر ایک جماعت میدان میں نکل آئی ہے بلکہ حکومت نے بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا چنانچہ ۱۹۳۶ء کی سالانہ رپورٹ میں لکھا کہ۔" یہ امر قابل ذکر ہے کہ سب سے پہلی منتظم تبلیغی سوسائٹی یعنی "احمد یہ ہندوستانی مشن " نے دوران سال میں افریقن باشندوں میں کام شروع کیا۔ان کا سب سے پہلا سکول ٹیور اشہر میں قائم کیا گیا ہے جس کی حاضری کافی ہے۔(صفحہ ۱۸) افسوس مخالفین کی شورش اور بائیکاٹ کے باعث ۴۱-۱۹۴۰ ء میں یہ سکول بند کر دیا گیا۔سکول کے اجراء کے بعد شیخ مبارک احمد صاحب نے تبلیغ اسلام کے دوسرے ذرائع اشاعت اسلام کے دوسرے ذرائع کی طرف بھی خاص