تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 233 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 233

تاریخ احمدیت جلده ۲۳۱ سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو۔اس ترکیب سے اس نے لفرائے کو اس قدر تنگ کیا کہ اس کو اپنا پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔افسوس ۱۹۳۴ء کے بعد "معجز نما کلاں قرآن شریف" کے دیباچہ سے وہ پورا باب جس میں مندرجہ بالا عبارت درج تھی بالکل حذف کر دیا گیا ہے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اس فصل کے خاتمہ پر جلیل القدر صحابہ اور بعض دوسرے بزرگوں کا وصال آپ ان بزرگوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو ۱۹۳۴ء میں داغ مفارقت دے گئے۔et محی الدین صاحب مالا باری ( مالابار کے سب سے پہلے احمدی) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۵/ جنوری ۱۹۳۴ء کو ان کی نماز جنازہ سے قبل فرمایا۔” پرانے احمدی تھے مالا بار میں احمدیت ان کے ذریعہ ہی قائم ہوئی ہے ان کے بچے بھی نہیں پڑھے جن میں سے ایک کی تو زندگی وقف ہے اور گو دوسرے دنیوی کام کرتے ہیں مگر مخلص نوجوان ہیں۔عبد الکریم صاحب آف یاد گیر (حیدر آباد دکن) ۵ / جنوری ہی کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان کی نسبت فرمایا۔" دو سرا جنازہ عبد الکریم صاحب کا ہے۔عام قانون کے ماتحت میں ان ہی کا جنازہ پڑھتا ہوں جو یا تو جماعت کے خاص کارکن ہوں یا پرانے احمدی اور حضرت مسیح موعود کے وقت خدمات کر چکے ہوں یا جن کا جنازہ پڑھنے والا کوئی احمدی نہ ہو لیکن ان صاحب کا اس لئے پڑھ رہا ہوں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا زندہ معجزہ تھے۔یہ وہی صاحب ہیں جن کو باولے کتے نے کاٹا اور کسولی سے علاج کرانے کے بعد حملہ ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے شفایاب ہوئے۔ای روز حضور نے چودھری غلام حسین صاحب کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور فرمایا ” آپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں احمدی ہوئے۔بہت مخلص تھے مگر بعد میں غیر مبائع ہو گئے تھے۔آخری عمر میں ان کو توجہ ہوئی تھی اور مجھے لکھا تھا کہ دعا کریں۔اگر آپ کی بیعت ہی میں ہدایت ہے تو اللہ تعالٰی میرے نصیب کرے اور مجھے پر حق کھول دے۔کتابیں پڑھتے اور تحقیقات کر رہے تھے کہ فوت ہو گئے۔۔۔ایسے غیر مبائع جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں خدمت کی ہے اگر اب انہوں نے ہتک نہ کی ہو تو ہمارا فرض سے کہ حضور کی طرف