تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 234
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۳۲ سے ان کی خدمت کا آخری بدلہ جنازہ پڑھ کر دیں۔اس پر کئی لوگ مجھ پر ناراض بھی ہوئے ہیں۔مگر اس بارے میں میرا نفس اس قدر مطمئن ہے کہ میں کسی کی ناراضگی کی پروا نہیں کرتا۔میں سمجھتا ہوں ہمارے دل بغض سے پاک ہونے چاہئیں۔زندگی میں ہم ان سے دلائل سے لڑیں گے۔لیکن ان کی وفات کے بعد خدا تعالٰی سے یہی کہیں گے کہ یہ تیرے مسیح پر ایمان لائے تھے۔ہمیں جو تکلیف ان سے پہنچی ہے وہ معاف کرتے اور تیرے حضور ان کے لئے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب کی وفات پر بھی میں نے ایسا کیا تھا۔خلافت کا انکار تو اللہ تعالٰی سے تعلق رکھتا ہے۔مگر ان کی وفات کی خبر سنتے ہی میں نے ان کے لئے دعا کی اور کہا کہ میں اپنی تکالیف معاف کرتا ہوں اللہ تعالٰی بھی انہیں معاف کر دے۔مرنے کے بعد ایسی بات کو دل میں رکھنا بہت ہی ادنی سمجھتا ہوں"۔ای سال حضرت مولوی جلال الدین صاحب مبلغ ملکانہ کی وفات ہوئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۸ جون ۱۹۳۴ء کے خطبہ جمعہ میں خاص طور پر ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔مولوی جلال الدین صاحب جو کھریپر ضلع فیروز پور کے رہنے والے تھے اور ملکانوں میں تبلیغ کے لئے مین پوری رہتے تھے۔فوت ہو گئے ہیں وہ پرانے اور نہایت مخلص احمدی تھے۔میں دیر سے انہیں جانتا ہوں۔یہ تو میں 1 نہیں کہہ سکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آئے یا بعد لیکن حضرت خلیفہ اول کے زمانہ سے میرے ان سے تعلقات عنه تھے میرا ۲۷ سالہ تجربہ ہے کہ میں نے ان کے چہرہ پر کبھی امامت کے آثار نہیں دیکھے۔ہمیشہ خوش نظر آتے کئی دفعہ وہ اپنے معاملات پیش کرتے اور انہیں ایسا مشورہ دینا پڑتا جو ان کے خاندان کے خلاف ہو تا مگروہ ہمیشہ خندہ پیشانی سے سنتے اور ہنتے ہوئے کہتے کہ اچھا یہ بات ہے اور کبھی کسی بات پر برا نہ مناتے انہیں تبلیغ کا جنون تھا۔مین پوری سے جو احمد ہی آتے بلکہ بعض اوقات وہاں سے غیر احمدی بھی آتے وہ بتاتے کہ ان کے تقویٰ و طہارت کا اس علاقہ میں گہرا اثر ہے۔جس طرح ان کی وفات ہوئی۔وہ بھی اپنے اندر شہادت کا رنگ رکھتی ہے۔سخت گرمی کے دن ہیں وہ ایک جگہ تبلیغ کے لئے گئے اور یہ گوارا نہ کیا کہ تمام دن وہیں گزاریں۔لوگوں نے بھی کہا کہ گرمی بہت ہے یہیں ٹھہر جائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ نہیں دوسری جگہ جا کر بھی تبلیغ کرنا ضروری ہے۔چنانچہ چلے گئے اور رستہ میں سن سٹروک جسے ضربتہ الشمس کہتے ہیں ہو گیا اور بے ہوشی میں کسی گوردوارے کے سامنے جا گرے اور فوت ہو گئے۔لوگوں نے i