تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 203
تاریخ احمد بیت ، جلد ۷ اگر کوئی یہ کہے کہ چودھری ظفر اللہ خاں اس قابل نہیں کہ وہ سر فضل حسین کے جانشین ہوں یا ان کو تجربہ کافی نہیں ہے یا دوسرے امیدواروں سے افضل نہیں۔تو یہ طریق مخالفت جائز ہو گا لیکن عقیدہ کی بناء پر ان کی مخالفت کرنا پرلے درجہ کی غلطی ہے جس کا ارتکاب چودھری صاحب سے کہیں زیادہ ملت کے لئے خوفناک ثابت ہو گا۔چودھری صاحب بارہا مسلمانوں کی طرف سے پنجاب کو نسل میں نمائندہ بن کر آئے۔ایک دفعہ ان کو یہ اعزاز بلا مقابلہ نصیب ہوا۔کو نسل کے اندر مسلمانوں کے عام مفاد کی نمائندگی کرتے رہے سائن کمیشن میں انہوں نے مسلم نمائندہ کی حیثیت سے کام کیا۔یہ سر فضل حسین کی جگہ پر عارضی طور پر مقرر ہوئے اور گول میز کانفرنس میں مسلم نمائندہ کی حیثیت سے لئے گئے۔ان تمام مواقع پر کوئی آوازان کے خلاف بلند نہیں ہوئی لہذا اب ان کے خلاف اس آواز کا بلند ہونا صاف بتا رہا ہے کہ ع۔کوئی معشوق ہے اس پر دہ زنگاری میں۔لیکن معاملہ کے اس پہلو کے متعلق فی الحال زیادہ عرض کرنا مناسب نہیں۔۔۔۔چودھری صاحب نے جہاں جہاں بھی مسلمانوں کی خدمت کی وہاں ہمیشہ مفاد ملت کا خیال رکھا کسی موقعہ پر ان کے کسی بد ترین دشمن کو بھی یہ کہنے کی جرات نہیں ہوئی کہ انہوں نے قادیانیت کو مفاد اسلام پر ترجیح دی۔انہوں نے لنڈن میں اپنا اور مسلمانوں کا نام روشن کیا۔سر آغا خاں اور دوسرے مسلمان ان کی قابلیت ، محنت، جانفشانی اور مفاد اسلام کے لئے ان کی عرق ریزی کے مداح رہے لہذا عقیدہ کی بناء پر اس وقت ان کی مخالفت کرنا پرلے درجے کی احسان ناشناسی ہے جو اسلام کو کبھی گوارا نہیں۔میں کہہ چکا ہوں کہ چودھری صاحب کا اصول یہ ہے کہ وہ کسی منصب یا عمدہ کے لئے حکومت کے سامنے دست سوال دراز نہ کریں گے اس لئے کسی شخص کو یہ جرات نہیں ہو سکی کہ وہ ان کو کسی منصب کا امیدوار سمجھ کر ان کی تائید کرے۔لیکن میں بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ گزشتہ خدمات قابلیت، محنت، مفاد اسلام کے لئے عرقریزی اور مسلم مطالبات کی دیانتدارانہ تائید کے لحاظ سے چودھری صاحب بفضلہ تعالٰی سرمیاں فضل حسین صاحب کے جانشین ہونے کے اہل ہیں اور اگر چہ ۸ کروڑ مسلمانان ہند میں اور لوگ بھی اس اہمیت کے مالک ہیں تاہم اگر حکومت نے انتخاب کا قرعہ فال چودھری صاحب کے نام پر نکالا تو ۸ کروڑ مسلمانان ہند کی ۹۹۶۹ فیصدی تعداد کو مسرت ہو گی"۔مندرجہ بالا بیانات چودھری صاحب کے تقریر سے پہلے کے ہیں رسالہ ”شاہکار " کا شذرہ اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ سرکاری اعلان کے بعد مسلمانوں کے سنجیدہ باد قار اور محب قوم طبقہ نے کس رائے کا اظہار کیا۔اس ضمن میں بطور مثال پر وفیسر احسان اللہ خاں صاحب تاجور نجیب آبادی کا ایک بیان ملاحظہ ہو جو انہوں نے اپنے مشہور رسالہ ”شاہکار اپریل