تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 204 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 204

تاریخ احمدیت ، جلد ٦ ۲۰۴ ۱۹۳۵ء میں شائع کیا تھا۔علامہ تاجور نے لکھا۔احمدی ہے یا غیر احمدی ! مسلمان ہے یا کافر مجھے اس سے بحث نہیں کیونکہ میں مفتی مذہب کی حیثیت نہیں رکھتا۔البتہ بحیثیت ایک انسان کے میں نے ظفر اللہ خاں کو ایک قابل قدر انسان پایا ہے کم و بیش اٹھارہ سال سے میں اسے جاننے کی طرح جانتا ہوں۔مجھے ایماندارانہ اعتراف ہے کہ میں نے ظفر اللہ خاں میں انسانیت کی بہت سی خوبیاں دیکھی ہیں۔میرے مذہبی خیالات احمدی عقائد سے بہت مختلف ہیں میں احمدی نہیں ہوں۔دیو بند کی جامعہ اسلامیہ میرا گہوارا تربیت ہے دیو بند اور قادیان میں جس قدر بعد مسافت حائل ہے اس سے زیادہ ان مقامات کی مذہبی جماعتوں میں اختلاف عقائد ہے لیکن کسی سے عقیدہ کا اختلاف رکھنے کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ اس کی ذاتی خوبیوں کا بھی انکار کر دیا جائے میں ایک غیر احمدی ہونے کے باوجود چودھری ظفر اللہ خاں کی ممتاز صفات سے انکار نہیں کر سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ اس نے احمدی ہونے کا بہت نقصان اٹھایا ہے ورنہ ظفر اللہ خاں ایسی گراں مایہ شخصیت کا مالک ہے جس پر کوئی قوم کوئی ملک اور کسی ملک کی آئندہ نسلیں فخر کر سکتی ہیں سیموئیل ہو ر کا یہ کہہ دینا معمولی سی بات نہیں کہ " آج تک انگلستان میں جتنے بھی ہندوستانی آئے ہیں ظفر اللہ خان اپنی قابلیت میں ان سب سے ممتاز ہے "۔گول میز کانفرنس کی کارکن کمیٹیوں میں ظفر اللہ خاں کی قانونی قابلیت نکتہ دانی اور آئین سازی کے جو ہر دیکھ کر رائٹ آنریبل سری نواس شاستری جیسے جو ہر شناس کا یہ کہنا بے انتہا اہمیت رکھتا ہے کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو عرض کروں کہ آپ کے کمال قابلیت کو دیکھ کر میرے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو گئی ہے"۔مولانا ابو الکلام صاحب کے استفسار پر مسز سروجنی نیڈو کا یہ ارشاد بھی کچھ معنی رکھتا ہے کہ گول میز کانفرنس میں ہندوستان کے کیس کو سب سے بہتر طریقے پر چوہدری ظفر اللہ خاں نے پیش کیا اور ان کے بعد سوامی ملیار نے "۔عجیب واقعہ ہے کہ غیر مسلم طبقوں میں چودھری ظفر اللہ خاں متعصب سمجھے جاتے ہیں لیکن جو لوگ ان کے خیالات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ظفر اللہ خاں اور تعصب ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے البتہ وہ مسلمانوں کے حقوق کو غضب ہوتا نہیں دیکھ سکتے اور بالکل اسی طرح دوسروں کے حقوق کا فراخدلانہ اعتراف اور ان میں عدم مداخلت کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ظفر اللہ خاں کے منہ سے میں نے کبھی غیر معقول بات نہیں سنی وہ نہایت ذہین فطین اور متین ہونے کے ساتھ ہی اعلیٰ درجہ کی