تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 202
تاریخ احمدیت جلد ۶ کے سیاسی مفاد کو نقصان پہنچایا۔حکومت اپنے مصالح یا سرکاری عہدوں کی تقسیم مسلمان فرقوں کی آپس کی مذہبی رقابت یا عداوت کے ماتحت نہیں کر سکتی جبکہ ان سب فرقوں کا مطمح نظر ایک ہو اور کسی سیاسی معاملہ میں ان کا آپس میں تصادم نہ ہو تا ہو مجھ کو چودھری ظفر اللہ خاں صاحب سے کوئی خاص ہمدردی نہیں ہے نہ ان کے مذہبی عقائد سے مجھ کو اتفاق ہے کیونکہ وہ ایک مرزائی ہیں اور میں شیعہ ہوں۔مذہبی عقائد کے لحاظ سے مجھ میں اور ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے لیکن میں اصولا اس رائے سے اختلاف رکھتا ہوں کہ کسی شخص کے تقرر کے خلاف محض اس بناء پر احتجاج کیا جائے کہ وہ ہمارے فرقہ سے نہیں۔حالانکہ سیاسی لحاظ سے وہ ہمارا ہمنوا ہے اور ایک سے زیادہ موقعوں پر وہ مسلمانوں کے حقوق کی ترجمانی کر چکا ہے اس قسم کی مخالفتوں کا اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہے کہ ہم اپنی کمزوری دوسروں کے سامنے ظاہر کرتے ہیں اور ان کو اپنے اوپر شیر کرتے ہیں"۔" اخبار سیاست کا اہم اداریہ مولانا سید حبیب صاحب ایڈیٹر اخبار "سیاست" نے ۱۹ اکتو بر ۱۹۳۴ء کے پرچہ میں لکھا۔میں اور میرے ہم خیال جو کچھ کہتے ہیں وہ نہایت ساری بات ہے ہم کہتے ہیں کہ گول میز کانفرنس میں آغا خان کی طرح کے جو لوگ اسلام کے لئے مفید ثابت ہوئے وہ صحیح العقیدہ نہیں ہیں لیکن اختلاف عقیدہ کے باعث ان کی خدمات سے منہ موڑ لینا اور ان کی جگہ لینے کے لئے کوئی قابل آدمی پیش نہ کر نا ملت کے مفاد کو کند چھری سے ذبح کرنے کے مصداق ہے اسمبلی اور کو نسلوں میں جو مسلمان بزرگوار ملت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ان کو اگر عقائد کی کسوٹی پر پر کھا جائے تو ان میں سے ایک فیصدی بھی ایسے نہ نکلیں کے جو اس لحاظ سے قابل قبول ہوں۔نیز اس اصول کو قبول کر لینے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جس مسلمان کو بھی ایسا اثر و رسوخ حاصل ہو گا جو ملت کے لئے مفید ہو سکے وہ لازماً عقیدہ " کسی ایک عمر وہ ملت سے متعلق ہو گا۔لہذا ۷۲ آراء اس کے خلاف بلند ہوں گی اور یوں مسلمانوں میں سے کسی لیڈر کے بار سوخ و مفید ہونے کا تمام امکان مٹ جائے گا اور مسلمانوں میں عقیدوں کی جو جنگ موجود ہے وہ مساجد کو برباد کرنے کے بعد اب سیاسیات کے میدان کو بھی آلودہ کر کے خراب کر دے گی۔پس عقیدہ کی بناء پر ظفر اللہ خاں یا کسی دوسرے مسلمان کی مخالفت کرنا پرلے درجہ کی نادانی ہے۔پھر ہم کہتے ہیں کہ ظفر اللہ خاں کسی عہدہ کے امیدوار نہیں ہیں ہاں ان کو اگر کوئی منصب ملا اور انہوں نے سمجھا کہ وہ اس منصب کو قبول کر کے مسلمانوں کی خدمت کر سکیں گے تو وہ اس کو قبول کر لیں گے۔ان حالات میں ایسے صاحب ایثار کی مخالفت کرنا پرلے درجہ کی اندوہناک جسارت ہے جو مفاد ملت کے لئے بے حد مضر ہے۔