تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 3 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 3

تاریخ احمدیت - جلد 1 -- ایک کانگریسی لیڈر پنڈت نانک چند صاحب نے گول میز کانفرنس میں کہا کہ۔مسلمان جاہل پسماندہ اور ناکافی تعلیم یافتہ ہیں اور ان کو کنٹرول کرنا آسان نہیں۔دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ حکومت کی باگ ڈور نا خواندہ فرقہ کے ہاتھ میں دی جانے لگی ہے"۔اس بیان پر آل انڈیا خلافت کمیٹی کے ترجمان " خلافت " (بمبئی) نے ایک جوابی نوٹ سپرد قلم کیا۔جس میں لکھا کہ۔اگر قادیان جیسے قصبہ کا ٹانگہ والا خالصہ اور دیانند کالج کے گریجوئیٹوں کو بند نہ کر دے۔تو ہمار از مہ - پھر مسلمان کبھی صوبہ کی آزادی طلب نہیں کریں گے"۔یہ الفاظ ظاہر کر رہے تھے کہ اللہ تعالٰی نے جماعت احمدیہ کے مرکز قادیان کو ایسی فضیلت اور علمی شان عطا فرمائی ہے کہ اس مقدس مقام کا بچہ بچہ اپنے علم اور قابلیت میں دنیا کے بڑے بڑے تعلیم یافتہ اشخاص پر بھاری ہے نیز یہ کہ قادیان کی سرزمین نے ایسے زبر دست دماغ پیدا کئے ہیں جو حجت اور برہان کی رو سے بڑے بڑے مخالفین اسلام کا ناطقہ بند کر کے ان کا اثر بخوبی زائل کر سکتے ہیں۔جمعیتہ العلماء ہند کے آرگن "الجمعیتہ " (دہلی) نے جماعت احمدیہ کی تنظیم اور اس کے سالانہ جلسہ کی اہمیت کی نسبت مندرجہ ذیل بیان شائع کیا۔قادیانیوں کی کامیابی کا راز صرف ایک بات میں مضمر ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ بہت منتظم ہیں۔ان کے یہاں مختلف امور کے لئے مختلف شعبے قائم ہیں جن میں تنخواہ دار اور مستقل سٹاف کام کرتا ہے۔مریدین کے چندوں کا اگر چہ کافی حصہ غیر متعلقہ مدات میں بھی صرف ہوتا ہے لیکن پھر بھی قادیانی پراپیگنڈا کے لئے کافی سرمایہ موجود رہتا ہے ظاہر ہے کہ موجودہ زمانہ میں سرمایہ اور تنظیم کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں۔اور یہ دونوں چیزیں قادیانیوں کو میسر ہیں۔علاوہ مرکزی سٹاف کے جو قادیان میں ہے ہر اس مقام پر جہاں دو چار قادیانی بھی ہیں ایک الگ جماعت قائم ہے۔جو مرکزی جماعت کے زیر نگرانی ہے۔اس طرح سے ہر ایک قادیانی اپنے مرکز سے وابستہ ہے۔اخبار اور سالانہ جلسہ سے اس تنظیم کی اور بھی تکمیل ہو جاتی ہے گویا قادیانیوں کا سالانہ جلسہ بسلسلہ تنظیم وہ کام کر رہا ہے جو مسلمانوں کے یہاں حج بیت اللہ سے ہونا چاہئے۔اب اس قادیانی تنظیم کے مقابلہ میں مسلمانوں کی حالت دیکھی جائے تو نہایت پراگندہ اور غیر منظم ** ۴ جماعت احمدیہ کے مشہور معاند اخبار "زمیندار" کے ایڈیٹر جناب مولوی ظفر علی خان صاحب