تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 4
تاریخ احمدیت جلد ۲ نے جماعت احمدیہ کی ترقی اور عروج و اقبال کا اقرار کرتے ہوئے لکھا۔یہ ایک تناور درخت ہو چلا ہے اس کی شاخیں ایک طرف چین میں اور دوسری طرف یورپ میں پھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں"۔نیز لکھا۔" آج میری حیرت زدہ نگاہیں بحسرت دیکھ رہی ہیں کہ بڑے بڑے گریجوئیٹ اور وکیل اور پروفیسر اور ڈاکٹر جو کونٹ اور ڈیکارٹ اور ہیگل کے فلسفہ تک کو خاطر میں نہیں لاتے تھے غلام احمد قادیانی کے خرافات واہیہ پر اندھا دھند آنکھیں بند کر کے ایمان لے آئے ہیں " یہ تو برطانوی ہند کے بعض مسلم زعماء کے تاثرات ہیں جو بطور نمونہ او پر درج کئے گئے ہیں۔اب بر صغیر کے غیر مسلم پریس کا نقطہ خیال ملاحظہ ہو۔آریہ سماجی اخبار "پر کاش" لاہور نے تبلیغ احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ۳/ جنوری ۱۹۳۲ء کی اشاعت میں لکھا۔ان کے پلیٹ فارم کی مضبوطی کی تو یہ حالت ہے کہ ہر ایک احمدی سے یہ آشا کی جاتی ہے کہ مرکز سے حکم پاتے ہی وہ باقاعدہ واعظ کا کام کرنے پر تیار ہو گا۔ورنہ معمولی طور پر تو جو بھی احمدی جس اوستھان میں ہے وہ واعظ کا کام کرتا ہے لیکن اس کا پریس مضبوطی میں آریہ سماج کے مقابلہ میں حیرت انگیز ہے ایک قادیان کو لو وہاں سے نصف درجن اخبارات سے کم نہیں نکلتے جن میں دو انگریزی ہیں اور اردو پتروں میں سے ایک ہفتہ میں تین بار شائع ہوتا ہے۔عجب نہیں کہ اسے جلد روزانہ کر دیا جائے۔احمدی پریس کا جال سارے ہندوستان میں ہی نہیں۔با ہر نو آبادیوں اور مغربی ممالک تک بچھا ہوا ہے۔ہر جگہ سے احمدی اخبار اور رسالے نکلتے ہیں۔اس او ستھا میں احمدیت کی تبلیغ کامیاب ہو تو تعجب ہی کیا ہے یہ سارے اخبار پچپن ہزار احمدیوں کے سر پر چل رہے ہیں۔یہ احمدی تبلیغ کے سوائے کوئی اور کام نہیں کرتے اس لئے احمدیت سے باہر ان کی اشاعت کی کوئی توقع نہیں پچپن ہزار احمدی ہی ہیں جو اپنی کمائی کے حصہ سے انہیں زندہ رکھ رہے ہیں اور کس لئے زندہ رکھ رہے ہیں؟ احمدیت کے پر چار کے لئے۔آریوں کی سنکھیا ت ماتری I بھارت میں ہی دس لاکھ سے کیا کم ہوگی لیکن آریہ سماج کے پریس کی حالت کو دیکھ کر ہر ایک آریہ کا سرمارے ندامت کے جھک جانا چاہئے “۔مصری پریس میں جماعت احمدیہ کی خدمات اسلامیہ کی بازگشت ہندوستان سے باہر جس مسلمان ملک میں پہلی بار جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز کامیابی اور قابل تقلید اسلامی خدمات کا کھلا کھلا